
جی تو چاہتا تھا بھائی چارے اور محبت اور غربیوں کی امداد وغیرہ کے بارے میں لکھوں لیکن ایسا لگا کہ شاید بھائی چارے کے بارے میں لکھنے سے پہلے اس کے لئے ماحول بنانا چاہئے، ابہامات کو دور کرنا چاہئے اور مکاری اور حیلہ گری کا پردہ چاک کرنا چاہئے چنانچہ مضمون نویسی کے قواعد کو بالائے طاق رکھ کر کچھ الفاظ لکھ دیئے، امید ہے کہ ہمارے صارفین و قارئین کے لئے مفید واقع ہوں اور پڑھنے والے ان باتوں کو دیکھ حقائق افشاء کرنے میں ہماری مزید مدد فرمائیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسیپن سے ایک ویڈیو کلپ:
ہمارے کچھ پاکستانی برادران نے امریکہ اور ہسپانیہ سے کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں جو ورلڈمیٹر رپورٹس اور دوسری سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس سے کی نفی کرتی ہیں۔
والنسیا اسپتال کے ایمرجنسی کے شعبے کے سامنے کھڑے ہوکر ایک پاکستانی بھائی نے موبائل کیمرہ ادھر ادھر گھما کر فرمایا ہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے دیکھیں پوری سڑکیں خالی ہیں اور یہ ایمرجنسی وارڈ کے سامنے میں کھڑا ہوں اور اپنے دوست کے ساتھ ہسپتال میں بیٹھا رہاں ہوں یہاں کورونا ورونا کچھ نہیں ہے۔ جس پر ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ اگر دنیا بھر کی تمام رپورٹوں، لاسوں اور بیماروں کی تصاویر پر یقین نہیں کرنا چاہئے تو ان کی اس بےنام و نشان ویڈیو کا کیوں اعتبار کیا جائے؟ یہ تو ہمی بھی معلوم ہے کہ لوگ قرنطینہ میں بیٹھے ہیں اور سڑکیں خالی ہیں تو اس سے تو کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ اور ہاں ہم ان کی بات کو مسترد بھی نہیں کرتے لیکن بہتر ثبوت پیش کریں تاکہ اس پر اعتماد کیا جاسکے۔ مثلا کورونا کے مریضوں کے لئے مختص کسی ہسپتال کا دورہ کریں؛ جبکہ ہمارے یہ دوست بظاہر باہر بھی جاسکتے ہیں اور ڈاکٹروں کے ساتھ گھنٹہ بھر بات چیت بھی کرسکتے ہیں تو مہربانی کرکے وہاں کے کسی ڈآکٹر یا حتی نرس سے ایک چھوٹا سا انٹرویو لے کر یہی بات کہلوادیں کہ "یہاں کورونا ورونا کچھ نہیں ہے"۔ گوکہ یورپ میں کورونا کے ہونے یا نہ ہونے سے پاکستان پر کچھ زیادہ فرق بھی نہیں پڑتا جہاں کی صورت حال ہی بالکل دنیا سے مختلف ہے اور جس کی طرف اگلی سطور میں اشارہ کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے دوسری ویڈیو:
دوسری ویڈیو میں ـ جو مفصل بھی ہے ـ ایک پاکستانی بھائی نے نیویارک کے بارے میں دعوی کیا ہے کہ وہاں بھی کچھ نہیں ہے نہ کوئی کورونا میں مبتلا ہے اور نہ ہی کوئی مر رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ "حکومت امریکہ نے سڑکوں کو خالی کروایا ہے لوگوں کو گھروں میں بند کردیا ہے کوئی سڑکوں پر نہیں آسکتا" اور ساتھ ہی فرمایا ہے کہ سٹیزن جرنلسٹس (citizen-joualists) نے ہسپتالوں کا معائنہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔
کورونا ایک عالمی وبا ہے جو ایران بھی پہنچا، مغرب بھی پہنچا اور مغرب سے لبنان اور سعودی عرب بھی پہنچا اور سعودی عرب سے مصر وغیرہ میں منتقل ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ امریکیوں کے خلاف امریکی حکومت کی ایک سازش ہے جیسا کہ اس ویڈیو میں ظاہر کیا گیا ہے تو پھر کورونا وائرس چین، روس اور ایران میں کیا کررہا ہے؟ کیا یہ ممالک بھی امریکی سازش کا ساتھ دے رہے ہیں؟
ہم اس ویڈیو کو بھی یکسر مسترد نہيں کرتے لیکن ایک خالی عمارت میں داخل ہوکر وہاں کی تصویریں بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کچھ زیادہ کامیاب کوشش نہیں ہے کہ کورونا وائرس کی داستان ہی ایک جھوٹی داستان ہے۔
جب ہم نے ایک گروپ میں اس ویڈیو کے اوپر کمنٹ دی کہ "ہمارے بھائی جو یورپ اور امریکہ میں ہیں اس عجیب ویڈیو کا جواب دے سکتے ہیں گوکہ میری تحقیق کے دوران citizen joualists کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا اور واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص حتی کہ جرنلسٹس اپنے گھروں سے نہیں نکل سکتے اور ہسپتالوں میں داخل نہیں ہو سکتے [یعنی یہ کہ citizen-joualists اتنی سخت پابندیوں کے باوجود کیونکر ہسپتالوں تک پہنچ سکے ہیں؟]۔
تو ہمارے ایک دوست نے یہ ویڈیو امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی بھائی کے لئے بھجوادی تو انھوں نے جواب میں کہا:
"امریکہ میں بہت بری حالت ہے اور بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں؛ یہاں کورونا دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ وسیع سطح پر پھیلا ہوا ہے، بڑی تعداد میں لوگ مبتلا ہوچکے ہیں۔ گوکہ ابتداء میں یہاں کورونا کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن اب یہ چھپانے کے قابل نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی مریضوں کو دنیا سے چھپا رہا تھا ان ہی دنوں یہ کافی وسیع سطح پر پھیل چکا تھا اب صورت حال پہلے سے بدتر ہوچکی ہے۔
اور ہاں ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ چاہے یہ وبا قدرتی ہو چاہے امریکی سازش اور حیاتیاتی جنگ کا نتیجہ ہو؛ ہمیں اللہ پر توکل اور چودہ معصومین علیہم السلام سے توسل کرنا چاہئے اور ناامید نہیں ہونا چاہئے۔
بہرحال امریکہ اور یورپ میں کورونا کے ہونے یا نہ ہونے سے پاکستان کو براہ راست کوئی فرق نہيں نہیں پڑتا لیکن پاکستان کی صورت حال کچھ اور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت حال یہ ہے کہ آج پاکستان سے ایک بھائی نے فون کیا تو انھوں نے پاکستان کا بالکل مختلف نقشہ سامنے رکھا اور کہا:
جو زائرین ڈیڑھ دو مہینے قبل پاکستان گئے تھے انہیں 14 دن تک تفتان کے ماڈرن دور کے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا، وہ سب ایک ہی جگہ ہوتے تھے اور ان کے درمیان فاصلہ رکھنے کا کوئی انتظآم نہیں تھا ۔۔۔ کیونکہ قرنطینہ کے منتظمین جانتے تھے کہ کوئی بھی کورونا میں مبتلا نہیں ہے ۔۔۔ اور جب انہیں دھوم دھام سے لے جایا اپنے شہروں کی طرف سے جایا جارہا تھا ۔۔۔ آگے بھی پولیس کی گاڑیاں اور پیچھے بھی پولیس کی گاڑیاں ۔۔۔ تو تصویریں بنوانے کے لئے ان سے کہا گیا کہ ماسک پہنیں اور تصویریں بنانے کے بعد ماسک اتارے گئے تو کسی نے کوئی احتجاج و اعتراض نہیں کیا کیونکہ سب جانتے تھے کہ بنی نوع انسان کے ساتھ یہ مذاق کچھ رپورٹیں دینے کے لئے ہورہا ہے اوپر والوں کو۔۔۔ کسی وقت میں نے لکھا تھا کہ "عالمی بینک نے کورونا زدہ ممالک کے لئے امداد کا اعلان کیا تو ترکی کے صدر جناب اردوان نے اپنے ملک میں کورونا کے نہ ہونے پر طویل المدت اصرار کے بعد کہہ دیا کہ ہاں کورونا ترکی میں بھی آپہنچا ہے" اور میں نے لکھا تھا کہ "شیخ رجب طیب اردوان کے پاکستانی مرید جناب "عمران خان" بھی بہت جلد عالمی بینک سے قرض لینے کی غرض سے کورونا کے پھیلاؤ کا رونا رونا شروع کریں گے" اور پھر ایسا ہی ہوا لیکن بہانہ نہیں مل رہا تھا تو زائرین کو ورلڈ بینک کا قرضہ لینے کے لئے قربان کرنے کا فیصلہ ہوا۔
بہرحال ہمارے دوست نے فون پر کہا کہ ہم نے چودہ دن تفتان میں رہنے کے بعد مزید 15 دن تک ملتان قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا لیکن وہ کوئی قرنطینہ مرکز نہیں تھا بلکہ ایک ہی بڑے ہال میں 2000 افراد کو رکھا گیا تھا اور اگر ان میں سے کوئی ایک فرد بھی مبتلا ہوتا تو 2000 افراد کی جان اب تک جاچکی ہوتی۔
ویسے قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی مشتبہ مریض نظر آئے اور وہ 14 دن تک قرنطینہ میں رہے اور تندرست رہے تو وہ کورونا کا مریض نہيں ہے اور اگر کورونا کے کسی مریض کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا جائے اور وہ زندہ رہے تو وہ کورونا سے صحت یاب ہوچکا ہے،،، لیکن یہاں تو بات یہ تھی کہ حتی کسی ایک شخص میں کورونا کی کوئی بھی علامت نہيں تھی اور جب ایک بار 12 لوگوں کا ٹیسٹ پازیٹو قرار دیا گیا ـ اور وہ بھی ناقص اور ہمارے دوست کے بقول دو نمبر کی ڈیٹکشن کٹ کے ذریعے، ـ تو انہيں ایمبولینسوں میں بٹھایا گیا اور آگے اور پیچھے پولیس کی سائرن بجاتی گاڑیاں تھی اور کورونا کورونا کا ورد ہورہا تھا اور اعلان ہورہا تھا کہ کورونا کے مريض آرہے ہیں اور تماشا لگایا گیا تھا شہر میں اور پھر ان بارہ زائرین کو ترکی ہسبتال میں پہنچایا گیا اور ہسپتال کے ذمہ دار ڈاکٹروں نے ان "قیدیوں" کو دیکھتے ہی پاکستانی عملی کو شدت سے ڈاٹنا اور کہا کہ جناب یہ تو سب بالکل تندرست ہیں جاؤ اور اگر کوئی حقیقتا مریض ہے تو اس کو لے آؤ اور یوں ان افراد کو قرنطینہ مرکز یا زائرین کے حبس بےجا کے لئے مقرر کردہ عقوبت خانے میں متنقل کیا گیا۔
لگتا تھا کہ قرنطینہ کے کرتے دھرتے بھی اور سول اور پولیس افسران کسی بھی قیمت پر وہاں سے کوئی کورونا کا مریض کو نکال کر ہی دم لینا چاہتے ہیں۔ دو ہزار انسانوں کو لئے نفسیاتی ٹارچر کے تمام اسباب کو بروئے کار لایا جاتا رہا اور جب ایک حاملہ خاتون کو ہسپتال اور الٹرا ساؤنڈ کی ضرورت پڑی تو اس مظلوم خاتون کو درکار علاج فراہم کرنے کے بجائے اس کو نشتر ہسپتال کے خالی کورونا وارڈ میں پھینک دیا گیا اور دروازے پر باہر سے تالا ڈال دیا گیا اور مشہور کروایا گیا کہ کورونا وائرس کا ایک کیس آگیا ہے لیکن اس خاتون خود بھی شدید احتجاج کیا اور ایک گملہ پھینک کر پورے ہسپتال کو عملے کو وارڈ کے پاس لا کھڑا کیا اور باہر سے بھی رشتہ داروں نے احتجاج کیا تو انہيں بمشکل اس نئی قید سے نجات ملی ورنہ اس خاتون کو کورونا کے کھاتے میں ڈالنے کا پورا انتظام ہوچکا تھا۔
اور تو اور، بھکر کا ایک نوجوان ـ جو سات سال سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھا اور اسے نشتر ہسپتال لایا گیا تو اس کو قریب الموت قرار دیا گیا چنانچہ انسان دشمن افراد نے اوپر والوں کو ان کے مطلب کی رپورٹ فراہم کرنے کے لئے اس بدحال مریض کو ملتان کورونا سینٹر میں پھینکا گیا اور جب اس مظلوم مریض کا انتقال ہوا تو اس کی لاش کو کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کے لئے مخصوص تھیلیوں میں بند کردیا گیا اور مشہور کیا گیا کہ "قرنطینہ سنٹر میں کورونا سے متاثرہ ایک مریض کا انتقال ہوا ہے" اور پھر خاص انتظآمات کے ساتھ اس کو بھکر منتقل کیا گیا اور پھر کافی دنوں تک ان کے گھر بھی فون پر رابطے ہوتے رہے اور جب مرحوم کے گھر والوں نے کیس کرنے کی دھمکی دی تو فون پر تنگ کرنے کا یہ سلسلہ بند ہوا۔
فون پر اس دوست نے بتایا کہ ہم مجموعی طور پر ایک مہینے تک قرنطینہ میں رہے اور قرار پایا کہ ہمیں اپنے علاقوں میں پہنچایا جائے تو 2 گھنٹے کا راستہ 15 گھنٹوں میں طے ہوا اور زائرین کو گاڑی میں گھمایا جاتا رہا اور جب سرکاری حکام سے بات ہوئی تو انھوں نے روایتی انداز سے ڈرانے دھمکانے کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی لیکن جب یہ پڑھے لکھے زائرین خوفزدہ نہیں ہوئے اور وجہ معلوم کرنے پر اصرار کرتے رہے تو انھوں نے کہہ دیا: "ہم مجبور ہیں، اوپر والوں کا حکم ہے"۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر والے یہ سارا ڈرامہ رچا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ بھی القاعدہ کے بناوٹی حملوں کی طرح کا قصہ ہے جس میں ایک فوجی صوبیدار کے بقول کہا جاتا تھا کہ: تم پر حملہ ہوگا لیکن تم جوابی کاروائی کرنے سے پرہیز کرو! اور جب صوبیدار نے فیصلہ کیا کہ "مزید خاموش نہيں رہیں گے بلکہ حملہ آوروں کا جواب دیں گے اور پھر حب رات کو حملہ ہوا تو انھوں نے رد عمل دکھایا اور جب القاعدہ کے ہلاک شدگان کے نقاب اور مصنوعی داڑھیاں الگ کی گئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں اسی یونٹ کے ایک کیپٹن صاحب بھی شامل تھے اور انہیں حکم تھا کہ کچھ سپاہیوں کو وقفے وقفے سے القاعدہ کے بھیس میں جاکر مار دیا کرو کیونکہ اوپر والوں کو اور باہر والوں کو (!) رپورٹ دینا ہوتی ہے اور یہ فوجی امداد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ یوں جتایا جائے کہ گویا پاکستان کو القاعدہ سے مسلسل خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ،،، کیا آج کورونا ہمارے حکمرانوں کے لئے القاعدہ کا کردار کردار کررہا ہے؟
ہمارے بھائی نے کہا کہ: ہمارا خیال ہے کہ جو طوفان کورونا کے حوالے سے کچھ غیر شیعہ مذہبی گروپوں کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ بھی ایسا ہی ہے اور اس میں بھی کوئی حقیقت نہيں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اسلام آباد، لاہور، پشاور اور بعض دوسرے بڑے شہروں میں ان ہسپتالوں کا قریب سے معائنہ کرے اور وہاں کورونا کے لئے مخصوص شعبوں کو قریب سے دیکھ لے تو شاید حقائق کا بہتر انداز سے پتہ چلایا جاسکے اور حقائق آشکار ہوجائیں۔ چنانجہ توقع ہے کہ بھائی لوگ اس مسئلے کی ذرا غیر محسوس انداز سے چھان بین کریں اور دیکھیں کہ حقائق کیا ہیں؟ کیونکہ کافی لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس آیا ہی نہیں ہے!!! اور اگر آیا ہے تو بہت زیادہ محدود ہے اور قابو میں آچکا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں کورونا ہے یا نہیں ہے لیکن یہ بات بڑی عجیب ہے کہ ہمارے بھائی نے مجھے بتایا کہ جو لوگ ڈیڑھ مہینے سے پاکستان آئے ہیں اور حبس بےجا کے کئی مراحل سے گذر چکے ہیں اب ان کے گھروں کے باہر کورونا کے بینر لگایا گئے ہیں، وہاں لوگوں کا آنا جانا منع ہے اور روزانہ تین مرتبہ ان گھروں پر پولیس والوں کی ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے اور اب وہ اپنے گھروں میں نظر بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
ظلم کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ انداز بھی بدلتے رہتے ہیں اور اس وقت پاکستانیوں کو کورونا کے نام پر کورونا سے بدتر بےرحم اور سنگدل حکمرانوں کے مظالم کا سامنا ہے۔ کسی وقت یوٹرن ہیرو جناب عمران خان نے نیازی نے بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ قول لوگوں کو سنایا ہوگا: "الْمُلْكُ يَبْقَي مَعَ الْكُفْرِ وَ لَايَبْقَي مَعَ الظُّلْمِ"؛ حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہيں رہتی۔
کسی وقت یہ صاحب اور ان کے حوالی موالی دوسری حکومتوں کو یہ حدیثیں سنایا کرتے تھے اور آج جس ظلم کا ان کی حکومت نے آغاز کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر زدپذیر ہے یہ دو دن کی کرسی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
شیعه خبر ...
ما را در سایت شیعه خبر دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 175 تاريخ: پنجشنبه 4 ارديبهشت 1399 ساعت: 10:36