
محمد العیسی نابینا یہودی مذہبی راہنما کے شانہ بشانہ

محمد العیسی شاہ سلمان کے شانہ بشانہ
نابینا سعودی مفتی اعظم کی اقتداء میں
دنیا بھر میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے حوالے سے بدنام زمانہ سعودی ریاست ـ جس کی بنیاد اپنی جڑواں یہودی ریاست کی مانند انگریزی ایجنسیوں نے رکھی ہے ـ نے ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کے زمانے میں مزاحمت تحریک کی تمام جماعتوں کے ناموں کو خودساختہ دہشت گرد جماعتوں کی فہرست میں درج کر لیا ہے؛ بہت سے فلسطینیوں کو حماس سے تعلق کا الزام لگا کر عقوبت خانوں میں بند کیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کو یہودی ریاست کے حوالے کردیا ہے، نیز بہت سے نام نہاد اور بکے ہوئے صحافیوں اور قلم کاروں اور حتی کہ اپنی سائبر آرمی کو آزادانہ اجازت دی ہے کہ وہ فلسطینیوں اور ان کے مجاہد قائدین اور زعماء کو برا بھلا کہتے رہیں، ان کی توہین کریں، فلسطینیوں کے حقوق کو ناجائز قرار دیں اور نظر انداز کریں، اسلامی مقدسات کی توہین کریں یہاں تک کہ قبلۂ اول کی آزادانہ بےحرمتی کریں؛ یوں سمجھئے کہ سعودی ریاست اسرائیل کی پشت پناہی کے مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ کر فلسطینیوں پر حملے کی پوزیشن میں آگئی ہے اور جس طرح کہ وہ اپنے تمام وسائل کو اسرائیل کی مدد کے لئے بروئے کار لا رہی تھی آج اپنے تمام وسائل کو فلسطینیوں پر حملے کے لئے بروئے کار لا رہی ہے۔

ایم بی ایس کے دور میں فلسلطینیوں پر حملہ اور ان کی توہین اور صہیونیوں کی مداحی اور یہودی ریاست کو میدانی کمک پہنچانے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے تا کہ وہ لوگ ـ جو ایم بی ایس کی قربت چاہتے ہیں ـ اس بچھی ہوئی بساط پر این دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے میدان میں آئیں۔
یہ میدان صرف بنی سعود کے غیر سرکاری کارکنوں کی سرگرمیوں کے لئے مختص نہیں ہے بلکہ سرکاری اہلکار بھی نامہ نگاروں، صحافیوں، سیٹلائٹ چینلوں اور ایم بی ایس کی سائبر آرمی کے ساتھ مسابقت میں مصروف ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں غاصب اسرائیلی نظام میں شامل اعلی صہیونی-یہودی حکام کے ساتھ سعودی شہزادوں اور ان کے اقارب کی خفیہ اور اعلانیہ ملاقاتوں کے بعد، سابق سعودی وزیر قانون اور رابطۃ العالم الاسلامی (Muslim World League) کے سیکریٹری جنرل محمد العیسی (محمد عبد الکريم العيسى) کا ستارہ چمکنے دمکنے لگا جب اس نے پولینڈ میں سرگرم ہونے والی یہودی لابی ـ جو یہودیوں اور اسرائیل کی حمایت کررہی ہے، میں شرکت کی اور جون 2019ع میں اس نے اس لابی کے اراکین کے ہمراہ آشویتز کیمپ (Auschwitz concentration camp) کا معائنہ کیا جبکہ اس سے قبل مئی 2018عu200d میں اس نے ہالوکاسٹ کے یادگار میوزیم (United States Holocaust Memorial Museum) کا معائنہ کیا؛ اور یوں غاصب ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دنیا بھر کے صہیونی راہنماؤں نے کو محمد بن عبدالعزیز کو اپنا ہر دلعزیز قرار دیا ہے۔

صہیونی فضاؤں کا سعودی ستارہ محمد العیسی، جو روز بروز روشن تر ہورہا ہے، یہاں تک کہ امریکی یہودی کمیٹی (American Jewish Committee [AJC]) کے زیر اہتمام 14 جون سے 18 جون تک "اسرائیل کی حمایت" کے عنوان سے منغقد ہونے والی پانچ روزہ مجازی کانفرنس میں بھی العیسی کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ اس آنلائن کانفرنس کے افتتاحی سیشن کا مقرر ہوگا۔
قابل ذکر مسئلہ یہ کہ امریکی یہودی کمیٹی (AJC) نے اپنی ویب گاہ میں اعلان کیا ہے کہ اس کانفرنس میں "دنیا بھر میں ملت یہود کو درپیش مسائل" منجملہ "یہود دشمنی اور کورونا کے دور میں یہودیوں سے نفرت کی دوسری اشکال"، "سنہ 2020عu200d کے امریکی صدارتی انتخابات"، "امن و آشتی کے لئے تل ابیب کی کوششوں!!" اور "ماورائے اوقیانوس تعلقات (The transatlantic relations) کے مستقبل" پر بحث و تمحیص کا اہتمام کیا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ ستر برسوں تک عالم اسلام کو دھوکے میں رکھنے والے سعودی خاندان کا مندوب محمد العیسی اس کانفرنس میں امریکییہودی کمیٹی کے مقررہ موضوعات کے بارے میں کہے گا تو کیا کہے گا جبکہ ان تمام موضوعات کا تعلق صہیونی ریاست کی حمایت اور فلسلطینیوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں سے ہے؟!
ایم بی ایس نے فلسطین کے خلاف اس ہلاکت خیز پالیسی ـ جو یہودی-صہیونی جماعتوں کی تشددآمیز ترین، انتہا پسندانہ ترین اور نسل پرستانہ ترین پالیسیوں سے بالکل مختلف نہیں ہے اور اگر اسے عبرانی میں لکھا جائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی مسلم اور عرب ملک کی پالیسی ہوسکتی ہے ـ کس چیز کے حصول کے لئے ہے؟ کیا ایم بی ایس کو تخت بادشاہی پر قابض ہونے کے لئے یہ ـ دین اسلام، قرآن کریم، قبلۂ اول اور مسلم امہ کے ساتھ دشمنی پر مبنی ـ پالیسی اختیار کرنا پڑی ہے؟
کیا امت مسلمہ کو اپنی مقدس سرزمین پر قابض سعودی قبیلے کی ان پالیسیوں کی خبر ہے؟
اگر انہیں خبر ہے تو امت کے درمیان ایسا کوئی مرد مجاہد ہے جو ظاہری طور اعتقادی اشتراک سے قطع نظر، امت اور اس کے نبی(ص) اور کتاب اللہ کے ساتھ اس دشمنی پر رد عمل ظاہر کرے؟
کیا امت مسلمہ قرآن مجید کی آیت "لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ؛ یقیناً آپ ایمان لانے والوں کا سب سے سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے"۔ (المائدہ، 82) کی منسوخی کے بارے میں کوئی نئی آیت اتری ہے؟ اگر اتری ہے تو کہاں سے اتری ہے؟ کیا یہودیوں کے ساتھ بنی سعود کی مصالحت کی خاطر (معاذ اللہ) قرآنی احکامات معطل ہوچکے ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا کسی کو قرآنی احکامات نظر انداز کرنے کا خصوصی اذن ملا ہے؟ اور اگر نہ قرآنی آیات منسوخ ہوئی ہیں، نہ ہی قرآنی احکامات معطل ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو قرآنی احکامات نظر انداز کرنے کا اذن ملا ہے تو پھر مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا قرآن پر عمل کرنا مسلمان کا فریضہ نہیں ہے؟ آگر نہیں تو خاموشی کا راز کیا ہے؟
کیا کسی بھی جماعتی، فرقہ وارانہ یا مالی و سیاسی مفاد کی بنا پر قرآن کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟
آج پوری دنیا جانتی ہے کہ حج بیت اللہ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بنی سعود کے عیاش شہزادوں کی عیاشیوں اور یہودی ریاست کی امداد کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے، تو کیا پھر بھی انہیں خادم الحرمین الشریفین کا لقب دینا اور ان کے کہنے پر مسلمانوں کی مساجد میں دھماکے کرنا اور مسلمانوں کے گلے کاٹنا جائز ہے؟
جس تخت و تاج کے حصول کے لئے امت مسلمہ کو یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کیا جائے، سرزمین فلسطین کا سودا کیا جائے، قدس شریف اور قبلۂ اول کو غاصب اسرائیلیوں کے سپرد کیا جائے، کیا وہ تخت و تاج اسلام اور امت مسلمہ کے کام آسکتا ہے؟
جو تخت و تاج دین، ملت، امت، انسانیت اور بنی نوع انسان کے اقدار کو پامال کرکے حاصل کیا جائے کیا اس کے لئے کوئی شرعی اور اخلاقی یا قانونی جواز فراہم کیا جاسکے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کا مرکزی خیال العالم کی ایک یادداشت "السعودية... من نصرة "إسرائيل" الى مهاجمة الفلسطينيين" ماخوذ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
شیعه خبر ...
ما را در سایت شیعه خبر دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 124 تاريخ: دوشنبه 26 آبان 1399 ساعت: 17:06