کیا زائرین کو ڈیڑھ مہینہ حبس بےجان میں رکھنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے؟

خرید بک لینک

پاکستان کے سرکاری ادارے 30 دن سے قرنطینہ نام کے عقوبت خانوں میں حبس بےجان سہنے کے بعد زائرین کے ٹیسٹ اڑتالیسویں دفعہ "روایتی لیبارٹریوں سے کروا کر" انہیں کورونا میں مبتلا قرار دے رہے ہیں؟!؟!؟ حیرت انگیز نہیں ہے یہ قرنطینہ؟ ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال؟

تفتان کے قرون وسطائی عقوبت خانے میں 15 دن تک گوانتانامو سے بھی زیادہ مصائب جھیلنے کے بعد خیبر پختونخوا منتقل کئے جانے والے زائرین کو پھر بھی لمبی عرصے سے قرنطینہ نام کے قیدخانوں میں بند رکھا گیا ہے اور ان کی رہائی کا کوئی انتظام اور کوئی ارادہ نہیں ہے۔

کئی زائرین کو 30 یا 40 دن قرنطینہ نام کے قیدخانوں میں پابند سلاسل ہیں جنہیں اتنا عرصہ گذرنے کے بعد اچانک نیا ٹیسٹ مثبت آنے کے بہانے باقاعدہ پولیس لاک اب میں بند کر دیا گیا ہے!!!

پاکستان میں انسانی حقوق کا دعوی کرکے مشکوک عالمی اداروں سے حوصلہ افزائیاں وصول کرنے والوں کی کوئی کمی نہيں ہے جن کی پوری ذمہ داری قادیانیوں کو تحفظ دینا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی موجودہ صورت حال کافی نازک اور افسوسناک ہونے کے باوجود ان لوگوں کی زبانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لوگ ان بےگناہ انسانوں کے لئے آواز نہ اٹھائیں تو کیا وہ خود انسان کہلانے کے حقدار ہونگے؟

مدنی ریاست کی حکمران پارٹی ـ جس کی توجہ کسی وقت حکومت کے ہر اقدام سے کیڑے تلاش کرنے پر مرکوز رہتی تھی، ـ کو کیا یہ سب نظر نہیں آرہا ہے؟ کیا یہ زائرین انسانوں کے زمرے میں نہيں آتے اور کیا اس وقت سرکاری ادارے انسانی حقوق کو پامال نہیں کررہے ہیں؟

ہم تبلیغی جماعت والوں سے پوچھتے ہیں: تم جو زور زبردستی اور دھونس دھمکیوں کے بےاثر ہونے کے بعد لوگوں کو اللہ کے غضب کی وعید دلوا رہے ہو اور یوں اپنے خلاف تشہیری مہم رکوانے کی کوشش کررہے ہو کیا تمہیں بےگناہ زائرین کے ساتھ روا رکھے جانے والا رویہ سلوک نظر نہیں آتا؟ کیا اللہ کا غضب ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو بےگناہ انسانوں سے کورونا کے نام پر نجانے کس چیز کا بدلہ لے رہے ہیں؟ کیا زائرین اور تبلیغ کے خلاف اقدامات کے پیچھے تمہیں دین اور اسلام کے خلاف بڑی سازش دکھائی نہیں دے رہی؟؟؟

۔۔۔۔۔

ابو اسد

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 168 تاريخ: پنجشنبه 4 ارديبهشت 1399 ساعت: 10:36

صفحه بندی