سلام بر شہیدان

خرید بک لینک

شہادت سے برتر کوئی چیز نہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: "فَوْقَ كُلِّ ذِی بِرٍّ بِرٌّ حَتَّى يُقْتَلَ الرَّجُلُ فِی سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا قُتِلَ فِی سَبِيلِ اللَّهِ فَلَيْسَ فَوْقَهُ بِرٌّ؛ ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہے، یہاں تک کہ انسان اللہ کی راہ میں مارا جائے، تو جب وہ اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کے اوپر کوئی نیکی نہیں ہے۔ (الكافی، ثقۃ الاسلام کلینی ج2، ص348، ح4)

امیرالمؤمنین علیہ السلام کا شوق شہادت:

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کی شہادت کی خبر سننے کے بعد عبداللہ بن عباس کو ایک خط مرقوم کرکے فرمایا: "فَوَاللَّهِ لَوْ لَا طَمَعِي عِنْدَ لِقَائِي عَدُوِّي فِي الشَّهَادَةِ وَتَوْطِينِي نَفْسِي عَلَى الْمَنِيَّةِ لَأَحْبَبْتُ أَلَّا أَلْقَى مَعَ هَؤُلَاءِ يَوْماً وَاحِداً وَلَا أَلْتَقِيَ بِهِمْ أَبَداً؛ تو خدا کی قسم اگر دشمن سے جنگ کے دوران میرا شوقِ شہادت نہ ہوتا اور میں نے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں موت کے لئے تیار نہ کیا ہوتا، تو میں چاہتا کہ حتی ایک دن بھی ان لوگوں کے ساتھ نہ رہوں اور ہرگز ان سے نہ ملوں"۔ (نہج البلاغہ [دشتی]، مکتوب 35)

مقام شہید امام خمینی کے کلام میں:

"خدا کی راہ میں شہادت ایسی چیز نہیں ہے جس کو انسانی کسوٹیوں اور معمول کی ترغبیات کے پیمانوں پر پرکھا جاسکے، اور راہ حق اور الہی ہدف کی راہ میں شہید ہونے والوں کی اعلی منزلت کو "امکانی نظر" کے ذریعے سمجھا جاسکے۔ کیونکہ اس کی عظیم قدر و منزلت کے ادراک کے لئے "ربوبی نگاہ" کی ضرورت ہے، اور نہ صرف ہم خاک نشین اِس اور اُس کے ادراک سے عاجز ہیں بلکہ افلاک نشین بھی اس کی اصلیت تک رسائی سے عاجز ہیں، کیونکہ [ادراک کا یہ رتبہ] یہ انسان کامل کے مختصات میں سے ہے اور ملکوتی موجودات اس پراسرار منزلت سے دور ہیں"۔ (امام خمینی کا پیغام شہدا، اسرا اور مفقودین کے اہل خانہ کے نام؛  28 اگست 1983عu200d)

امام خمینی: شہید کی نظر وجہ اللہ پر ہوتی ہے"۔

امام خامنہ ای: "شہداء کی یاد شہادت سے کم نہیں ہے۔"

 

شہادت ایک قرآنی حقیقت:

علامہ محمد حسین طباطبائی: شہادت ایک قرآنی حقیقت ہے ۔۔۔ وسیع معانی پر مشتمل ہے۔ ہمارے معمول کے حواس اور ہمارے وجود کی قوتیں صرف افعال کی ظاہری صورت کو برداشت کرتی ہیں۔ اعمال کے حقائق اور معانیِ نفسانیہ، کفر و ایمان، شقاوت و سعادت، خیر و شر، حُسن و قبح اور ہر وہ چیز جو حِسّ سے مخقی ہے اور صرف قلوب کے ذریعے قابل ادراک ہے؛ یہ سب انسان کی نظروں کی حدود سے خارج ہیں جن کا نہ احاطہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں اعداد و شمار کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے، یہ صورت حال حاضرین کی ہے، چہ جائے کہ غائبین [سے ان کے ادراک اور احاطے یا احصاء کی توقع رکھی جاسکے]۔ لیکن شہداء ادراک کے اس مرتبے تک پہنچتے ہیں کہ یہ حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں اور یہ مطلع ہیں اور ان حقائق کے قریب ہی حاضر اور موجود ہیں۔ ("شهادت، اوج تعالی انسان"، مجلہ پاسدار اسلام، اسفند 83 و فروردین 1384ھ ش - شمارہ 279 و 280، ص51)۔

استاد شہید مطہری: "شہداء انسانی محفل کی شمع ہیں۔"

 

اور جو بات ہم سب کے لئے سبق کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر شہید کے لئے ایک عَلَم نصب کرو یعنی یہ ہم یہ کہتے رہیں کہ ہمارے اتنے نوجوان شہید ہوئے ہیں اور ان کی تعداد کو بیان کرکے یہ سمجھنا شروع کریں کہ ہم نے اپنا فرض پورا کیا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح ہم شہیدوں پر جفا اور ظلم کے مرتکب ہونگے۔ شہیدوں سے جان چھڑانے کی کوشش ہماری اپنی نہیں ہے بلکہ اس کے تانے بانے دشمن سے ملتے ہیں اور شہید کو بھلا کر رکھنے میں دشمن کا فائدہ ہے جبکہ ہمارے معاشروں سے برکتیں اٹھ جانے کا ذریعہ۔

ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر علاقے کے نوجوان، اپنے شہیدوں سے محبت بھی رکھتے ہیں اور ان کے غقیدتمند بھی ہیں، لیکن یہ محبت و عقیدت کافی نہیں ہے اور یہ نوجوان ـ جو پڑھے لکھے بھی ہیں ـ اپنے گاؤں، محلے اور علاقے کے شہداء کی زندگی، ان کے اہداف، ان کے اقوال، ان کے اعمال اور ان کے شوق شہادت کے بارے میں لکھ سکتے ہیں، ان کی تصویریں جمع کرسکتے ہیں، ان کے والدین، قریبی عزیزوں اور دوستوں سے اس کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں اور ہر شہید کا ریکارڈ بنا سکتے ہیں۔ اس میں شک نہيں ہے کہ شہید معاشرے کی حیات کا بنیادی سبب ہیں، اور شہیدوں کی یاد زندہ رکھنے سے شہادت کی تعلیم کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور اگلی نسلیں اپنے بزرگوں کی ایثار اور قربانیوں سے آگاہ ہوسکیں گی اور اگلی نسلوں کے نوجوان بھی بھی اپنے دین، اپنے عقیدے اور اپنے گھر اور اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگانے کی قدر و قیمت سے واقفیت حاصل کریں گے اور شہداء نے جن قدروں کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے اگلی نسلیں بھی ان قدروں کے تحفظ کو اپنا فریضہ سمجھیں گی اور نوجوان اپنے شہداء کی عظمت کو دیکھ کر ان قدروں کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے میں پس و پیش نہیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔

ابو اسد

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 140 تاريخ: دوشنبه 26 آبان 1399 ساعت: 17:06

صفحه بندی