ملتان میں زائرین اہل بیت رسول(ص) پر سرکاری اداروں کا ظلم عظیم

خرید بک لینک

30 دن ملتان کے عقوبت خانے میں زائرین کو رکھا گیا اور اس عرصے میں جتنا ظلم ہوسکتا تھا وہ ہو چکا۔ کئی کئی بار ان کے ٹیسٹ لئے گئے کبھی نتیجہ مثبت آیا اور کبھی منفی اور بیک وقت ایک ہی شخص کے منفی اور مثبت نتائج بھی آتے رہے۔

سرکاری اہلکاروں کی اس مسلسل ٹیسٹ لانے کے نتیجے میں بمشکل سو افراد کا ٹیسٹ آخرکار پازیٹو قرار دیا گیا حالانکہ اگر کوئی مریض ہو تو وہ 15 دن میں یا تو ٹھیک ہوجاتا ہے یا پھر وہ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے مگر ان لوگوں کو 30 دن بعد پازیٹو کیا گیا ہے۔ حالانکہ ان افراد میں جسمانی لحاظ سے کورونا کی کوئی بھی علامت نہیں پائی جاتی، وہ صحیح و سالم ہیں، گھومتے پھرتے ہیں، نہ ان کو خشک کھانسی ہے، نہ ہی ان کو سانس لینے میں کئی تکلیف ہے اور نہ ہی انہیں بخار ہے لیکن یہاں مقصد ہی کچھ اور ہے تو عجیب قسم کا برتاؤ کیا جارہا ہے۔

ملتان کے عقوبت خانے میں 1200 کے لگ بھگ زائرین کو قید کرلیا گیا ہے جن سے آح مورخہ 3 اپریل 2020 کو کہا گیا کہ تیاری کریں کیونکہ انہیں گھر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ ان میں سے گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد ڈویژن کے زائرین کو بسوں پر بھی سوار کیا گیا اور ان کا سامان بھی بس پر لادا گیا لیکن اچانک خبر آئی کہ "موٹر وے بند ہے؟" اور بعدازاں مختلف حیلے بہانوں کا سہارا لیا گیا جبکہ زائرین قیدخانے سے باہر آئے ہیں اور سڑک کے کنارے زمین پر بیٹھ کر انتظار کررہے ہیں اور انھوں نے کھانے پینے سے بھی انکار کردیا ہے جس کا مطلب ہے: *"بھوک ہڑتال"*

رپورٹ کے مطابق زائرین نے اس ساری رویئے پر احتجاج کیا تو موقع پر موجود حکام نے آدھا گھنٹہ بعد واپس آنے کا کہہ کر گھروں کی راہ لی۔ اور اب کبھی کرنل آتا ہے، کبھی ڈی سی ملتان آتا ہے، کبھی فوج کا کوئی کرنل بریگیڈیئر آتا ہے اور ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا اور فیصلہ ہونے والا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ نہیں ہوا ہے تو انہیں سڑک پر لانے اور گاڑیوں پر سوار کرنے کا مقصد کیا تھا؟ کیا ظلم و ستم میں کوئی کسر اور کوئی کمی رہی تھی کہ اب دوبارہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جس کو راز میں رکھا جارہا ہے؟

اس خدشے کو بعض اہلکاروں کی اس وعید (وعدی عذاب) سے تقویت ملی ہے کہ "ایک بار ٹیسٹ ہونگے اور ریسمپلنگ ہوگی!!!"۔ گویا انسانیت اور اخلاق اور مسیحاؤں کے مسیحائی بغض و تعصب کی ظلمات میں کہیں کھو گئی ہے، نہ محافظین صحت اپنا فریضہ نبھانے کے لئے تیار ہیں، نہ محافظین ملک اپنی ذمہ داری کو اہمیت دے رہے ہیں، اور نہ ہی حکمرانی کے اصل مقاصد کی یہاں کوئی اہمیت ہے بس ایک غیر تحریری قاعدہ سامنے رکھا جارہا ہے کہ "زائرین اہل بیت کو جہاں تک ممکن ہو تنگ کرو، اذیت دو، یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی زیارت جانے کا نام تک نہ لے۔

گویا تفتان کے راستے میں گاڑیوں سے اتار کر اور قومی شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے، بسوں پر گولی چلانے، کانوائے کے نام پر زائرین کو طویل عرصے تک تفتان اور کوئٹہ میں بند رکھنے اور زائرین کے راستے میں خودکش دھماکے کروانے سے وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکے تھے اور اب جبکہ ایک وباء آئی ہے اور اس سورس بھی معلوم ہوچکا ہے، اور یہ بھی طے ہے کہ یہ وباء کسی پر بھی رحم نہيں کرے گی اور اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہے، تو حضرات نے اسی ہتھیار کو زائرین کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا ہے جو ان کی اپنی بیماری اور موت کا سبب بھی ہوسکتی ہے۔

یہ ظلم عظیم کب تک جاری رہے گا؟ کیا منصف لکھاری اور کیا انسانی حقوق کے جھوٹے پاکستانی علمبرداروں یا پھر مذہب و اخلاق کے دعویداروں کے لئے یہ لمحۂ فکریہ نہيں ہے؟ کیا ہمیں پاکستانی سرکار کو اس رویئے سے باز رکھنے کے لئے عالمی ادارہ صحت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مدد لینا پڑے گی؟

۔۔۔۔۔

ابو اسد

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 176 تاريخ: پنجشنبه 4 ارديبهشت 1399 ساعت: 10:36

صفحه بندی