تھینک یو کورونا؛ یہ وقت بھی گذرے گا مگر شیعیان پاکستان کو یہ سب یاد رہے گا

خرید بک لینک

2020 coronavirus pandemic in Pakistan - Wikipedia

تھینک یو کورونا؛

یہ وقت بھی گذرے گا مگر شیعیان پاکستان کو یہ سب یاد رہے گا

عالمی بینک کی طرف سے کورونا زدہ ممالک کو امداد دینے کا اعلان ہوا تو ترکی اخوانی حکومت اور پاکستان کی یوٹرن حکومت نے فوری طور پر اپنے ملکوں میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا اعلان شروع کیا۔

لیکن سرکار پاکستان کے پاس کوئی بہانہ نہ تھا جبکہ ایران میں کورونا پھیل چکا تھا اور پاکستانی زائرین کو ـ عراق جاتے ہوئے بھی اور پاکستان لوٹتے ہوئے بھی، ـ ایران سے گذرنا پڑتا ہے تو عمران حکومت کو قربان کرنے کے لئے خاندان رسالت کے زائرین نظر آئے اور ڈیڑھ دو مہینوں تک انہیں قرنطینہ مراکز میں رکھنے کے باوجود وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ زائرین میں سے کوئی کورونا میں مبتلا ہے۔ لیکن اچانک کچھ دن قبل ڈیڑھ مہینے تک قرنطینہ میں رہنے کے بعد اعلان ہوا کہ زائرین کے ٹیسٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ سو سے زائد زائرین کورونا میں مبتلا ہیں۔

یہ خبر سننے کے بعد عقلاء نے اس کی تردید کردی کیونکہ حتی اگر کورونا میں کوئی شخص مبتلا ہو بھی، وہ 14 دنوں میں یا تو صحتمند ہوجائے گا یا پھر اللہ کو پیارا ہوجائے گا اور یہ لوگ ڈیڑھ مہینوں تک قرنطینہ میں رہے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کورونا میں مبتلا ہوں؟

تاہم آج ایک ذمہ دار شیعہ راہنما نے گتھی سلجھاتے ہوئے واضح کیا کہ "شیعہ زائرین کو قرنطینہ کے دوران کورونا وائرس سے آلودہ وسائل دے کر یا آلودہ دوائیں اور انجیکشن دے کر جان بوجھ کر کورونا میں مبتلا کیا گیا ہے۔ اس شیعہ راہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ "اس واقعے کی ذمہ داری وزارت صحت پر عائد ہوتی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی وزارت صحت کو وزارت امراض کا نام دینا چاہئے کیونکہ وہ صحت دینے کے بجائے امراض پھیلا رہی ہے یا یوں کہئے کہ پاکستانی عوام کو کورونا سے زیادہ خطرہ اپنی وزارت صحت سے ہے جو بین الاقوامی کے چار آنے حاصل کرنے کے لئے اپنے ہی لوگوں کو کورونا وائرس سے آلودہ کررہی ہے۔ گوکہ یہ پاکستانی حکومت کی پرانی روایت بھی جس نے بیرونی امداد کے حصول کے لئے کسی وقت پاکستان کو افغان مجاہدین کے سپرد کیا، پھر طالبان اور القاعدہ کے سپرد کیا اور کسی وقت طالبان کے خلاف اپنی سرزمین امریکیوں کے سپرد کردی اور اب باری کورونا وائرس کی ہے جو پاکستانی حکومت کے لئے القاعدہ اور طالبان کا کردار ادا کررہا ہے۔ تھینک یو کورونا!!!

میں نہیں سمجھتا کہ کسی نے بھی سرزمین پاکستان کی حفاظت اور پاکستانی ریاست سے وفاداری کے حوالے سے شیعیان پاکستان جیسا عظیم اور بےلوث کردار ادا کیا ہوگا۔ سرکاری اداروں نے طالبان کی آڑ میں پانچ سال تک پاراچنار کے شیعہ علاقے کا محاصرہ کرلیا؛ لوگوں کو بھوکوں مار دیا، عوام کو افغانستان کے غیر محفظ راستوں سے گذر کر پشاور پہنچنے پر مجبور کیا؛ لیکن پاراچنار کے عوام نے پاکستان کا پرچم نہيں اترنے دیا، اسی طرح سرکاری اداروں نے شیعوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈآل کر طالبان، الفاعدہ اور تکفیریوں کے حملوں کی آڑ میں ان کا قتل عام کیا، لیکن شیعوں سے ریاست مخالف نعرے سننے کو نہیں ملے۔ پاراچنار پر تکفیریوں اور سرکاری اداروں کے مظالم کے عین وقت میں، فوج اور ایف سی میں شامل پاراچناری جوان اور افسر سوات، وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں ملک کی حفاظت میں مصروف رہے، اور کوئٹہ کے شیعوں، پنجاب، سندھ، کراچی، گلگت بلتستان اور کشمیر کے شیعوں کا کردار بھی سرکار کے سامنے ہے لیکن اب شاید اس لئے انہیں مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر بیرونی دنیا سے مفادات کے حصول کا اہتمام و انتظام کیا جارہا ہے کہ سرکار سمجھتی ہے کہ یہ لوگ بہر صورت ملک اور ریاست کے وفادار رہیں گے!!!

کورونا کے اس فتنے میں دو ڈالر خزانے میں لانے یا پھر سیاستدانوں کے سوئس اکاؤنٹ ڈلوانے اور تکفیریوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے یا پھر ان کے شر سے بچنے کے لئے، پاکستان کے محب وطن شہریوں کو نہایت بھونڈے انداز سے قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے؛ جبکہ شیعہ بھی پاکستان ہی کے شہری ہیں اور کورونا نے ان کے کاروبار اور معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور انہیں سرکار کی ہمدردی کی ضرورت ہے؛ تو یقین کیجئے آج کی موجودہ شیعہ نسلیں موجودہ بزدلانہ، ظالمانہ اور خونخوارانہ پالیسی کو کبھی نہیں بھول سکیں گی اور ریاست پر مسلط گِدْھ بھی انہيں ہمیشہ یاد رہیں گے۔

حق تو یہ ہے کہ ہم میں کہہ دیں: تھینک یو کورونا، جس نے بہت سوں کے کریہ چہروں کو بےنقاب کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو اسد

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 153 تاريخ: پنجشنبه 4 ارديبهشت 1399 ساعت: 10:36

صفحه بندی