اے ارض فلسطین کے غدارو! تاریخ تمہیں کبھی نہیں بھولے گی

خرید بک لینک

اے ارض <strong>فلسطین</strong> کے <strong>غدارو</strong>! <strong>تاریخ</strong> <strong>تمہیں</strong> کبھی نہیں <strong>بھولے</strong> گی

جب یہودی ریاست کا وزیر اعظم فخر کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ اس کا تین ممالک کے سوا، باقی عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلق ہے، جب بحرین کی آل خلیفہ حکومت ایک بحرینی نوجوان کو یہودی ریاست کا جھنڈا جلانے کی پاداش میں جیل بھیج دیتی ہے اور جب سعودی محمد بن سلمان ببانگ دہل کہتا ہے کہ "سرزمین فلسطین پر یہودیوں کا حق ہے" اور جب زیادہ تر عرب حکومتیں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے عوامی اجتماعات پر پابندی لگاتی ہیں؛ جب سوڈان کی فضاؤں میں یہودی ریاست کے طیارے پرواز کرتے ہیں، تو جان لیجئے کہ ایک بہت بڑی خیانت ہوئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جب سوڈان کی عبوری حکومت کا سربراہ عبدالفتاح البرہان کہتا ہے کہ یہودی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام کو سوڈان کے مفاد میں ہے، جب بحرین کی خلیفی حکومت ـ فلسطینی کاز کی نابودی کے لئے ہونے والی صدی کی ڈیل کے لئے ـ اپنے تمام وسائل کو میدان میں لاتی ہے اور جب متحدہ عرب امارات کو یہودی راہنماؤں کی سیرگاہ میں تبدیل کیا جاتا ہے؛ جب امارات کی قبائلی نہیانی ریاست یمن کے خلاف سعودی قبائلی ریاست کے بنائے گئے اتحاد میں فعال کردار ادا کرتی ہے؛ جب یہودی (اسرائیلی) ریاست شام میں لڑنے اور زخمی ہونے والے تکفیری دہشت گردوں کے علاج معالجے کے لئے اپنے اسپتالوں کے دروازے کھول دیتی ہے؛ تو جان لیجئے کہ وہ پستی اور رذالت ـ جس میں بعض عرب حکام عرصے سے زندگی بسر کررہے ہیں ـ ایک ہمہ جہت بےغیرتی میں تبدیل ہوچکی ہے۔
جب آپ دیکھ لیں کہ یہودی ریاست کے وفود آزادانہ اور اعلانیہ طور پر بلاد الحرمین میں گھومتے پھرتے ہیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سڑکوں میں گھومتے ہوئے تصویریں، سیلفیاں اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈيا پر شیئر کتے ہیں، اور اس سرزمین کو اپنے نجس قدموں سے آلودہ کردیتے ہیں جس میں خداوند حکیم نے بیت اللہ الحرام اور حرم رسول اللہ(ص) کو قرار دیا ہے، اور ان کی بنا پر اس سرزمین کو تقدس عطا کیا ہے، وہ بھی ایسے حال میں جب سعودی ریاست نے فلسطینی مسلمانوں کو حج اور عمرے سے ادا کرنے سے روک رکھا ہے، جب سعودی، نہیانی اور خلیفی قبائلی ریاستوں کے تمام دروازے یہودی ریاست کے لئے کھول دیئے گئے ہیں، اور ایسے حال میں کہ ان ریاستوں میں ایک مسلمان کو یہودی ریاست پر زبانی کلامی تنقید کی پاداش میں عقوبت خانوں میں بند کرکے تشدد اور ہر قسم کی توہین اور ہتک حرمت کا نشانہ بنایا جاتا ہے؛ تو جان لیجئے کہ جو لوگ خادمین حرمین شریفین کہلواتے ہیں در حقیقت حرمین کے غدار اور خائن ہیں کیونکہ قبلۂ اول کا خائن قبلۂ موجود کا خادم نہیں ہوسکتا۔
اب آپ ہی بتا دیجئے کہ تاریخ ان عرب حکمرانوں کے بارے میں کیا فیصلہ سنائے گی جنہوں نے قبلۂ اول کے ساتھ خیانت کی اور فلسطین کو بغیر کسی قیمت کے فروخت کردیا ہے؟ ان لوگوں کے بارے میں تاریخ کا فیصلہ کیا ہوگا جو نیتن یاہو کے جوتوں کے تلوے چاٹنے کے لئے دوڑ لگانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے رہے ہیں؟
واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے کئی بار کہا ہے کہ اس کی حکومت ایک یہودی حکومت ہے جس میں نہ فلسطینیوں کے لئے کوئی جگہ ہے، نہ ہی مقبوضہ قدس شریف کے لئے اور نہ ہی مغربی کنارے اور غزہ کے لئے۔

http://abna.cc/95tM

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 177 تاريخ: پنجشنبه 22 اسفند 1398 ساعت: 22:04

صفحه بندی