
پہلی تشریح
9 ذوالحجۃ الحرام بعد از مغرب، حجاج عرفات سے نکل کر مشعر الحرام جاتے ہیں اور طلوع آفتاب تک وہیں قیام کرتے ہیں [اور وہیں سے مقامِ شیطان کو سنگسار کرنے کے لئے کنکریاں اکٹھی کرتے ہیں]۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے:
"فَإذا اءَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفاتٍ فاذْكُرُوا اللّه عِنْدَ المَشْعَرِ الحَرامِ"۔ [1]
ترجمہ: ہاں جب عرفات سے روانہ ہو تو مشعر الحرام کے حدود میں اللہ کو یاد کرو۔
تسمیۂ مشعر اور قیام مشعر کا فسلفہ
"مشعر الحرام" ـ جو عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے ـ کے کئی نام ہیں:
1۔ مشعر الحرام: مشعر اسم ظرف ہے اور اس کے معنی مقامِ شعور و ادراک کے ہیں اور "وقوف بالمشعر" سے مراد مقام شعور و ادراک سے واقفیت اور اس کے بارے میں غور و تفکر کرنا ہے۔ نیز ممکن ہے کہ اشارہ ہو نفس کی قوتوں کے مشاعر اور قوائے ادراک اور مراتب کمال کی ترتیب کی طرف اشارہ ہو؛ کیونکہ مراتب کمال یہ ہیں:
تجْلیہ، تخْلیہ، تحْلیہ اور فناء۔
تجْلیہ: یعنی اسلام کے دین مبین کی قبولیت اور حلال و حرام کی رعایت کرکے نفس کو جِلا دینا؛
تخْلیہ: یعنی ہر قسم کے گناہ، پلیدی اور نفس کی ہر صفت رذیلہ کو زائل کرنا اور نفس کو ان گناہوں اور رذائل سے خالی کرنا؛
تحْلیہ: یعنی نفس میں نیک اور پسندیدہ صفات کو بری صفات کی جگہ مستقر کرنا اور بسانا؛
فناء: فناء فی اللہ کے تین مدارج ہیں: پہلا درجہ فناء فی الافعال کا ہے، دوسرا صفات رب متعال میں فناء کا اور تیسرا اللہ کی ذات میں فناء کا درجہ اور تجلیہ، تحلیہ اور تخلیہ کے بعد فناء فی اللہ کا مرحلہ آتا ہے۔
"عرفات میں وقوف" [یا قیام] مرتبۂ تخلیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ انسان یہاں دعا اور استغفار کرکے اپنے نفس کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کردیتا ہے اور "مشعر میں وقوف" [یا قیام] مرتبۂ تحلیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ اس مقام پر انسان کو اپنے تمام مشاعر اور قوائے نفس کو اللہ کے لئے مختص کرنا پڑتے ہیں اور ان قوتوں کو نفسانی فضیلتوں اور اللہ کی رحمتوں سے روشناس کرانا چاہئے۔
2۔ مزدلفہ:
مشعر کو مزدلفہ کا نام دینے کا سبب بیان کرتے ہوئے کئی احتمالات اور امکانات پائے جاتے ہیں:
الف۔ لفظ "مزدلفہ" [اسم فاعل کا صیغہ] ہے جو مصدرف "ازدلاف" سے مشتق ہے جس کے معنی تقدّم یا مقدم ہونے کے ہیں اور چونکہ مشعر الحرام وہ مقام ہے جو منیٰ سے مقدم ہے، اسی لئے اس کو مزدلفہ کا نام دیا گیا ہے۔
ب۔ "ازدلاف" یعنی "تقرب"، اور چونکہ ان مقام پر لوگ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے درپے ہیں اسی وجہ سے اس کو مزدلفہ کا نام دیا گیا ہے۔
ج۔ "ازدلاف" یعنی "اجتماع"۔ چونکہ لوگ اس مقام پر اجتماع کرتے ہیں اس کو مزدلفہ کا نام دیا گیا ہے۔
3۔ جمع: کہا گیا ہے کہ اس مقام کو "جمع" بھی کہا کیا ہے کیونکہ حضرت آدم اور حضرت حّوا علیہما السلام اسی مقام پر ملے تھے۔
.................
1- بقره /197.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری تشریح:
عرفات مقام وحدت ہے اور مشعر مقام کثرت۔ اس مرحلے میں حاجی کو ظاہری اور معنوی مشاعر سے واقفیت حاصل کرنا چاہئے تا اس کی حکمت کا ادراک کرسکے۔ مشاعر انسان کی وہ قوتیں ہیں جن کے توسط سے وہ ادراک کرتا ہے اور ادراکی قوتوں کو انسان کے اپنے اختیار میں ہونا چاہئے اور اگر یہ مرحلہ طے ہوا تو سالک اپنی خواہشوں اور نفسانی آرزؤوں کی نفی کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے اور اس صورت میں وہ جسم سے خروج کے مرحلے تک پہنچتا ہے اور شہاب الدین سہروردی کے مطابق خلع جسم یا اختیاری موت، حکمت [فلسفہ] کی شرطوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا ہے: "ہم حکیم [فیلسوف] کو حکیم نہیں کہتا مگر یہ کہ وہ "موت اختیاری" کے مرحلے پر فائز ہو"۔ (1)
* مشعر کا دوسرا سرّ یہ ہے کہ جب انسان کو وہاں وقوف کے وقت اپنے مولا کو حاضر دیکھ لے، وہ سرزمین رحمت میں وارد ہوا ہے، لیکن اس سے اپنے اوپر رأفت و رحمت کی نسیم کو محسوس کرنا چآہئے۔ (2)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مزدلفہ میں وقوف حصولِ تقویٰ کے لئے ہے۔ مشعر صعود و عروج کے لئے ہے۔ مشعرعالم بالا کی طرف روح کے اعتلاء و ارتقاء کے لئے ہے؛ جس طرح کہ انسان پہاڑ سے اوپر چڑھتا ہے، اس کو صعود اور کمال کے زینے ـ یعنی توحید و فناء ـ کو یکے بعد دیگرے طے کرنا چاہئے۔ وَاتَّقِهِ بِمُزْدَلِفَةَ وَاصْعَدْ بِرُوحِکَ إِلَي الْمَلإ الأعْلی بِصُعُودِکَ إِلَی الْجَبَلِ"۔ (3)
چوتھے امام حضرت امام زین العابدین سید الساجدین علی بن علی علیہ السلام حدیث شبلی کے تسلسل میں مشعر کے اسرار کو یوں بیان فرماتے ہیں:
"مشعر میں داخلے کے وقت انسانی قلب کو تقوی اور خوف خدا کی طرف متوجہ کردینا چاہئے۔ مشعر جاتے وقت انسان کا دل مضطرب نہ ہو اور انحراف کی طرف مائل نہ ہو۔ انسان کا قلب مشعر میں موحّد ہونا اور صراط مستقیم پر گيامزن ہونا چاہئے۔ (4)
.................
1۔ سہروردی، شیخ شہاب الدين، حکمۃ الاشراق.
3۔ الفيض الكاشاني، المولى محسن، المحجة البيضاء في تہذيب الاحياء، ج2، ص202
4 . مصباح الشريعه، ص17
5 . مستدرک الوسائل، ج10، ص166
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری تشریح:
سرزمین مشعرالحرام عرفات سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر مکہ کے راستے میں واقع ہے۔ لاکھوں حجاج احرام کا لباس زیب تن کرکے ـ صحرائے عرفات میں اللہ کے فضل و مغفرت سے بہرہ ور ہونے کے بعد، اعمال حج جاری رکھتے ہوئے ـ سرزمین مشعر میں داخل ہوتے ہیں۔
مشعر میں وقوف کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کی مدت ہے۔ یہ روحانی وقت، جو عبادت کے لئے مناسب ترین موقع ہے، حجاج مشعر کے ملکوتی صحرا میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں، نماز بجا لاتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مستحکم کرتے ہیں۔
مشعر شعور سے مشتق ہے اور اس کے معنی آگہی کے ہیں۔ انسان اس سرزمین پر شعور پاتا ہے، ییعنی جو کچھ اس کا دل عرفات میں حاصل کرچکا ہے، وہ سب اپنی آنکھوں، کانوں اور بدن کے دیگر اعضاء و جوارح کو بھی دیتا ہے۔
حدیث میں مروی ہے کہ:
"ما اخلص عبد لله عزّ وجلّ اربعین صباحا الا جرت ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه"۔ (1)
ترجمہ: جو شخص اپنے آپ کو چالیس دن تک اللہ کے لئے خالص کرے [اور اپنا وجود اور روح و جان اور جسم و اعضاء کو صرف اللہ کے لئے مختص رکھے] حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔
اس حدیث کے مطابق، اگر کوئی شخص چالیس دن تک اپنے آپ کو خدا کے لئے خالص کردے یعنی اس کا کلام و کردار ہی نہیں بلکہ اس کا دل بھی الہی ہوجائے تو حکمت و معرفت کے چشم اس کے دل سے پھوٹتے ہیں؛ بالفاظ دیگر، جو کچھ پائے جانے کے قابل ہے، اس کو پا لیتا ہے، بعدازاں وہ حکمتیں جو انسان کا دل حاصل کرچکا ہوتا ہے، اس کی زبان پر بھی جاری ہوجاتی ہیں، یعنی انسان کا دل معرفت کو جسم کے تمام اعضاء تک پہنچا دیتا ہے اور آنکھیں اور کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں سب الہی ہوجاتے ہیں۔
جب حاجی مشعرالحرام سے باہر نکلتا ہے، وہ دن، عید کا دن ہے اور اس سے یوں نتیجہ لیا جاتا ہے کہ خداوند متعال اس کو اب عید کا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ اگر انسان اہلیت کی چوٹی پر فائز ہوا ہو اور عمرہ، عرفات اور مشعر میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کی اہلیت حاصل کرسکا ہو، اور اپنے وجود کو اللہ پر فدا کرسکا ہو، تو خداوند متعال خود ہی اس کو عید کا تحفہ دیتا ہے اور حاجی کا دل اللہ کا عرش بن جاتا ہے اور خداوند متعال اس کے دل پر حاکم ہوجاتا ہے [اور مزید یہاں کسی اور کا حکم نہیں چلتا]۔
................
1۔ مجلسی، بحار الانوار، ج70، ص242.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوتھی تشریح:
عرفات میں کچھ معرفتیں حاصل ہوتی ہیں اور حاج کافی کچھ پا لیتا ہے اور اس کے وجود سے معرفت پھوٹنے لگتی ہے، تو رات کے وقت اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مشعر الحرام کی طرف روانہ ہوجاتا ہے جو عرفات اور منی کے درمیان واقع ہے۔ خداوند متعال اس کو حرکت کو یوں بیان فرماتا ہے:
"فَإذا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفاتٍ فاذْكُرُوا اللّه عِنْدَ المَشْعَرِ الحَرامِ"۔ [1]
ترجمہ: ہاں جب عرفات سے روانہ ہو تو مشعر الحرام کے حدود میں اللہ کو یاد کرو۔
"أَفَضْتُمْ" کا لفظ افاضہ سے مشتق ہے جس کے معنی پھوٹنے اور جوش و خروش کے ہیں۔ یہ عبارت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ تم عرفات سے شکست خوردہ اور لٹے پٹے لشکر کی طرح منتشر مت ہونا، بلکہ ابلتے پھوٹتے چشمے کی مانند جوش و خروش کے ساتھ عرفان کے فیض عظیم اور حریت کے ساتھ آگے بڑھنا۔ منیٰ کی طرف حرکت کرو، لیکن منیٰ کے آستانے پر ایک رات رکنا، مزدلفہ یا مشعرالحرام منیٰ کا آستانہ ہے، مشعر شعور سے ماخوذ ہے، یعنی یہ دوسرا قیام دوسری بار رکنا ہے ایسے بےآب و گیاہ منطقے میں جس کو مشعرالحرام کہا جاتا ہے، یہ شعورگاہ ہے، مقام فہم و ادراک ہے اور بےشعوری اور نافہمی یہاں حرام ہے۔ یہ غور، باریک بینی اور دوراندیشی اور سوچ بچار کا مقام ہے جو ایک نہایت صحیح اور گہری شناخت کی علامت ہے۔ یہاں پر دقیق اور عمیق شعور پانا مقصود ہے اور اسی شعور کے ساتھ خدا سے جاملنا مطلوب؛ عرفات میں حاصل ہونے والی شناخت و معرفت کو ـ جو عرفات میں حاصل ہوئی تھی ـ اب مشعرالحرام کے مقام فکر و غور پر پایۂ تکمیل تک پہنچنا چاہئے۔ یہاں کچی اور نارسیدہ شناخت و معرفت قابل قبول نہیں ہے، بلکہ اس کو کامل ہونا چاہئے، عرفات معرفتوں کی نمایشگاہ تھا، اور ان کے انتخاب کا مقام نہیں تھا، لیکن یہاں باریک بینی اور غور و خوض کرکے بہتر سے بہتر کا انتخاب کرنا ہے چھان کر، راہ کج اور انحراف و ضلالت کے راستوں کو ترک کرنا ہے، یہاں اللہ کی طرف جانے والی شاہراہ پر گامزن ہونا۔ رات کے گھپ اندھیرے میں مشعر کی سرزمین سے گولہ بارود فراہم کرنا ہے کنکریاں! یہ تیر ہیں ریت کے بنے ہوئے، کیونکہ طلوع آفتاب ہوتے ہیں شیطان کے خلاف نبردآزما ہونا ہے؛ [شیطان کے خلاف جنگ لڑنے کے مرحلے میں داخل ہونا قرار پایا ہے مشعر سے شعور اور دشمن شناسی کے بعد] طلوع آفتاب سے قبل عزیمت کرنا ہے منیٰ کی جانب جہاں جمرہ نشانے پر ہے ایک مشعر میں باشعور ہونے کے بعد، جمرہ علامت [Symbol] ہے شیطان رجیم کی، [مجسمہ نہیں ہے، شیطان کا بت نہیں ہے، مقام ہے شیطان کا، علامت ہے اندرونی شیطان اور نفس امارہ اور نفسانی خواہشات اور مختلف النوع شہوتوں اور ہر اس چیز کا جو مؤمن کو اللہ کی یاد اور اس کے ذکر اور اس کے لئے کام کرنے اور اس کے فرامین کی تعمیل سے باز رکھے]، جس کو سنگسار کرنا ہے۔ اس شعور، شناخت اور ارادے کے ساتھ سرزمین منیٰ کی طرف عزیمت کرتے ہیں کہ شیطان کی علامت کو پتھر ماریں اور بعدازاں شیطان کی تمام تر علامتوں کو نشانہ بنائیں، اپنے آپ سے دور کریں اور خالص ہوجائیں۔ غور و فکر اور پوری توجہ کے ساتھ، دیکھنا کبھی گولہ خطا نہ جائے، نشانے پر لگ جائے، جب تک گولہ نشانے پر نہیں لگا ہے اس وقت تک گولہ باری جاری رکھیں، پورے سات گولے انسان کے اس ازلی اور ابدی دشمن کو لگنا چاہئیں۔ سات تیروں کو شیطان کے قلب پر بیٹھنا چاہئے۔ خواہ حاجی صاحب شیطان کو 70 تیر ہی کیوں نہ مارے، یہ یقین و اطمینان بہرحال حاصل ہونا مقصود ہے کہ سات تیر قلب شیطان پر لگ چکے ہیں۔
کامیابی ہے بہت عظیم، شیطان کو پتھر مار چکے ہیں، فیصلہ کن انداز سے شیطان کو اپنے سے دور کرچکے ہیں چنانچہ اب قربانی کے لئے تیاری ہے، ایک عظیم ایثار و قربانی کے لئے، قربان گاہ جانا ہے اور قربان کریں کیونکہ یہ عید الضحی یا عید قربان اور اثبات رحمن اور نفیِ شیطان کا دن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سورہ بقرہ، آیت 198۔
مأخذ:
ماہنامہ پاسدار اسلام، شمارہ 207 و 208 ، حجۃ الاسلام والمسلمین محمد محمدى اشتہاردى۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تالیف و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
شیعه خبر ...
ما را در سایت شیعه خبر دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 171 تاريخ: جمعه 9 مهر 1395 ساعت: 20:43