اسرائیلی ـ سعودی رشتے روز بروز رو بہ استحکام

خرید بک لینک
Image result for u202bسعودیu202c

بعض فرقوں کو منحرف کرکے مذہب تشیع کو یہودیت سے جوڑنے کے لئے دسوں برس سازشیں کرنے والے خود ہی اپنی رسوائی کا ساماں کررہے ہیں۔ ہمیں معلوم تھا یہ سعودی ـ وہابی درحقیقت صہیونی ہیں اور آج سے کئی برس قبل "نادر الظہور صہیونی وہابیت" کے عنوان سے ایک مدلل مضمون لکھا تھا جس باور کرنا حتی کہ اپنوں کے لئے بھی مشکل تھا لیکن اب کچھ عرصے سے وہ اپنی حقیقت خود ہی دنیا والوں کے سامنے عیاں کرنے لگے ہیں اور وہابی ـ صہیونی مشترکہ ریشہ دوانیاں طشت از بام ہونے لگی ہیں۔ امریکہ سمیت کئی یورپی اور ایشیائی ممالک میں سعودی بادشاہوں اور وزیروں کی صہیونی ریاست کے اہلکاروں سے ملاقاتوں کے بعد کئی سعودی وفود نے تل ابیب کا دورہ کیا اور امارات میں مشترکہ کانفرنسیں ہوئیں؛ کئی مرتبہ سعودیوں نے اور کئی مرتبہ صہیونیوں نے دو طرفہ تعلقات پر زور دیا اور کل سعودی ولیعہد محمد بن نائف نے سعودیوں کا اسلامی لبادہ مکمل طور پر اتار پھینکا ہے اور ثابت کیا ہے کہ سعودی سلطنت نہ تو کبھی مسلمانوں کی ہمدرد تھی اور نہ ہی مستقبل میں مسلمانوں کو ان سے کوئی توقع رکھنا چاہئے۔ دیکھئے:

سعودی ولی عہد نے ایپک کی طرف سے ایران کے خلاف ایپک کی "زحمتوں" کا شکریہ ادا کیا

26 ستمبر 2016 العالم

ان کا کہنا تھا کہ آل صہیون کے اقدامات آل سعود کے فائدے میں ہیں۔

سعودی ولیعہد محمد بن نائف بن عبدالعزيز نے گذشتہ بدھ کر روز نیویارک کے ایک مقامی ہوٹل میں اپنی قیام گاہ پر آیپک (American Israel Public Affairs Committee [AIPAC]) نامی مضبوط اسرائیلی لابی کی خاتون صدر لیلیان پنکس (Lillian Pinkus) سے ملاقات اور بات چیت کی۔

فریقین نے اس موقع پر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی اور مشرق وسطی کے مسائل کے سلسلے میں دو طرفہ تعاون پر زور دیا۔

بعض ذرائع نے "الوطن" ویب ویب سائٹ کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بن نائف نے ایران کے جوہری مسئلے کے خلاف آیپک کے موقف کو سراہا اور ـ ایران کے مقابلے ڈٹ جانے پر ـ اس کمیٹی کی سربراہ اور دیگر اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا!

بن نائف نے دنیا بھر میں اسرائیل اور آل سعود کے ہاتھوں دہشت گردی کے فروغ کی طرف اشارہ کئے بغیر "دہشت گردی" کے موضوع پر آیپک کے ساتھ ہمآہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور آیپک سے درخواست کی کہ امریکی کانگریس میں 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں میں سعودی کے ملوث عرب پائے جانے پر اس ملک سے ہالکین کے اہل خانہ کو معاوضہ دلوانے کے سلسلے میں جاری بحث میں آل سعود کی حمایت کرے۔

آل سعود کے ولی عہد نے آیپک سے درخواست کی کہ بقول ان کے "فلسطینیوں اور صہیونی ریاست کے درمیان دائمی امن" کے قیام کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لائے۔

سعودی شہزادے نے کہا: "ہم آیپک سے وعدہ کرتے ہیں کہ خطے کے ممالک سے فلسطین کی سرزمین پر ایک یہودی اور ایک فلسطینی ریاستوں کے قیام کے سلسلے میں بات چیت کریں گے اور انہیں یہ یہودی ریاست کی حمایت کے لئے آمادہ کریں گے"۔

امریکہ کی اندرونی اور بیرونی سیاست پر اثرانداز رہنے والی کمیٹی "آیپک" کی سربراہ نے سعودی ولی عہدے کے موقف اور وعدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: سعودیوں کو چاہئے کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کرے تا کہ اسرائیل اور علاقے کے عرب ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات حل ہوجائیں۔

لیلیان پنکس نے وعدہ کیا کہ ان کے زیر انتظام کمیٹی امریکی کانگریس میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے سعودیوں کو 11 ستمبر کے المیئے کے پسماندگان کو معاوضے کی ادائیگی سے نجات دلانے کی کوشش کرے گی۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے ایک قانونی مسودہ منظور کیا ہے جس کے تحت 11 ستمبر 2001 کے واقعے میں مارے جانے والے امریکیوں کے اہل خانہ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب سے شکایت کرکے معاوضے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ تاہم صدر اوباما نے اس قانون کو وٹو کرکے کہا ہے کہ یہ قانون امریکی مفادات کے لئے مضر ہے جبکہ دوسری طرف سے امریکی کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ صدر کی طرف کے ویٹو کو ویٹو کرے گی۔ بہرصورت دہشت گرد حکمرانوں کو اپنے ہی آقاؤں سے بہت بڑی مالیاتی سزا کا سامنا ہے اور امریکہ کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں سعودی حکمرانوں کے موجودہ سرمائے کو پہلی بار بڑا خطرہ درپیش ہے اور امریکہ میں اس قانون کے نفاذ کے بعد دوسرے ممالک بھی سعودیوں کے ہاتھوں ان کی سرزمینوں کو پہنچنے والے مالی اور جانی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے اس طرح کے قوانین منظور کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ف ح مہدوی

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 159 تاريخ: چهارشنبه 7 مهر 1395 ساعت: 6:13

صفحه بندی