ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے ساتھ تعلق بنانے کے لئے کوشاں حکومتوں سے کوئی قدر جنم نہیں لیتی / جو شخص دشمن کو دوست کے طور پر پیش کرے، وہ غدار اور خائن ہے / آل سعود کا شجرہ خبیثہ ملعونہ غیر حق بیت اللہ الحرام کو ضبط کئے ہوئے ہے
سپاہ قدس کے کمانڈر کا کہنا تھا: خدا لعنت کرے آل سعود کے شجرہ خبیثہ ملعونہ پر جس نے بیت اللہ الحرام اور عالم اسلام کے اس با عظمت مقام کو ضبط کرلیا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس کور کے کمانڈر میجر جنرل الحاج قاسم سلیمانی شہر ملایر کے 1100 شہیدوں کی یاد منانے کی غرض سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کیا۔ خطاب کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:
٭ دفاع مقدس [آٹھ سالہ جنگ] کا بےمثل اور باعث فخر دور ایک شاندار دور ہے اور اس طرح کے اجتماعات اور کانفرنسیں در حقیقت اس معنویت اور روحانیت کا ظہور و اظہار ہیں جو اپنے انعقاد کے بعد عرصے تک معاشرے پر اثر انداز رہتی ہیں۔
٭ دفاع مقدس کا دور ہمارے لوگوں کے لئے اور ایران اور اسلام کی تاریخ فخر و اعزاز کی اہم دستاویز ہے اور اس ملک کے ہر صوبے کے ہر گوشے میں اس طرح کی بیش قیمت دستاویزات پائی جاتی ہیں۔
٭ دفاع مقدس کے فنی اور ٹیکٹیکی مسائل کے بارے میں کتابیں لکھی گئی ہیں جو ناکافی ہیں اور ان موضوعات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے لیکن چونکہ امام خامنہ ای دفاع مقدس کے بارے میں تالیف شدہ کتب کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اس خوبصورت دور کی طرف خصوصی توجہ رکھتے ہیں، ضروری ہے کہ ہم بھی اس ضرورت کو اسی شدت سے احساس کرتے ہیں۔
٭ جو رومال رہبر انقلاب ایک رہبر عظیم اور مرجع تقلید کی حیثیت سے دفاع مقدس کی علامت کے طور پر گلے میں ڈالتے ہیں در حقیقت دفاع مقدس کے دور کے عقیدتمندوں کے لئے ایک دائمی اور زندہ تذکر اور یادآوری ہے اور اس کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ رہبر معظم بھی اس دور کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
٭ دفاع مقدس ایک گراں بہاء تجربہ ہے اور جو بھی ایک نامساویانہ جنگ میں کامیابی حاصل کرنا چاہے، ان کے لئے ہماری دفاعی روش بہترین نمونۂ عمل ہے۔
٭ دفاع مقدس کے دوران ایران میں گہری تبدیلیاں نمودار ہوئیں؛ آپ کہیں بھی نہیں دیکھ سکتے ـ سوائے صدر اول کے مختصر سے دور اور امام حسین علیہ السلام کے دور کے ـ کہ اس قدر تبدیلیاں اور اخلاقی اثرات کہیں نظر میں آئے ہوں۔
٭ دفاع مقدس نے بیک وقت تمام اخلاقی اور دینی نظریات کو عملی جامہ پہنایا اور حوزہ اور یونیورسٹی جیسے مؤثر ثقافتی اور علمی قوتوں سے بڑھ کر معاشرے کو بھی اور حوزہ اور یونیورسٹی پر بھی مثبت اثرات مرتب کئے۔
٭ دفاع مقدس کے مجاہدین کا طرز سلوک اس دفاع کی حقانیت اور قدسیت کی عکاسی کرتا ہے؛ ممکن ہے کہ بعض اوقات ایک ہدف حق ہو لیکن ناحق اعمال کی سمت میں واقع ہوجائے یا یہ برحق ہدف مخدوش ہوجائے؛ ہمارے دفاع مقدس نے معنی اور سلوک اور اعمال میں اس حقانیت کو اجاگر کیا۔
٭ امام خمینی (قدس سرہ) نے مجاہدین کو اللہ کے خاص اولیاء سمجھتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ ہمارے مجاہدین دشمنان خدا کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
٭ پوری دنیا میں امام خمینی (قدس سرہ) کی وجۂ شہرت تقوی ہے اور اسی امام نے مجاہدین کے بارے میں فرمایا: "میں تمہارے ہاتھوں اور بازؤوں کو بوسہ دیتا ہوں۔
٭ حج اور احرام مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ اہم ہے؛ خداوند متعال آل سعود کے شجرہ خبیثۂ ملعونہ پر لعنت کرے جس نے بیت اللہ پر ـ جو عالم اسلام کا باعظمت مقام ہے ـ غیر حق قبضہ جمایا ہوا ہے۔
٭ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دفاع مقدس کے دوران ہونی والی کاروائیوں کی راتوں کو، احرام کے زمانے کے توسل اور توجہ کی کیفیت دیکھنے میں آتی تھی۔
٭ دفاع مقدس کا تربیتی اثر سب سے اہم تھا۔ دفاع مقدس اخلاقی موضوعات کی چوٹیاں سر کرنے کا دور تھا، اور میں نہیں سمجھتا کہ تاریخ میں اس دور سے زیادہ جاذب نظر اور زیادہ اخلاقی دور بھی کوئی ہوگا۔
٭ میں نے بہت زیادہ رزمی اور جنگی مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے لیکن کوئی بھی منظر ہمارے دفاع مقدس کی طرح نہیں تھا اور ایثار اور جانبازی کی حقیقت دفاع مقدس کے ان مناظر میں عیاں ہوئی۔
٭ دفاع مقدس میں شہداء کی ماؤں اور گھر والوں کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔
٭ طریق القدس نامی کاروائی میں ہمارے شہداء کی تعداد زیادہ ہوئی تو بعض کمانڈرز پریشان ہوئے؛ میجرجنرل محسن رضائی کمانڈروں کو امام خمینی (قدس سرہ) کی خدمت میں لے گئے اور امام نے فرمایا: ان شہداء کے خون کی ذمہ داری مجھ پر ہے لیکن آپ کو خوش ہونا چاہئے کہ آپ کے نام لوح محفوظ پر مکتوب ہوئے ہیں۔
٭ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شہداء کے نام لوح محفوظ پر لکھے جائیں اور شہداء کی ماؤں اور اہل خانہ کے نام لوح پر نہ لکھے جائیں؟ وہ تمام مائیں جو مامتا کی حامل ہیں، انہیں اسلامی سرزمین ایران میں اپنے آپ کو مادر شہید سمجھنا چاہئے۔
٭ میری رائے یہ ہے کہ ہر خاندان کو اپنے گھر میں ایک شہید کی تصویر رکھ لینا چاہئے اور شہید کے ساتھ تعلق کا احساس کسی صورت میں بھی "خانوادۂ شہید" کی حد تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔
٭ اگر کسی سرکاری ادارے یا کسی نجی دفتر اور کسی بھی دوسرے مقام پر شہید کی تصویر نہ ہو تو یہ شہداء کے حوالے سے ایک قسم کی عدم معرفت اور عدم پہچان ہوگی، پورے شہر اور علاقے شہیدوں کے مرہون منت ہیں اور شہیدوں نے ان سب کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
٭ دفاع مقدس کے دور میں معاشرے کا انتظام بہت اہم تھا؛ امام نے اپنی انتظامی صلاحیت سے ہمارے معاشرے میں گہری تبدیلیاں رقم کیں اور ہمارے شہید کمانڈروں کی خصوصیت بھی منفرد تھی اور یہ تمام خصوصیات باعث ہوئیں کہ ہمارے کمانڈروں نے شہادت کے بعد مرجع تقلید کی سی منزلت پائی اور مجاہدین نے ان کی تقلید کی۔
٭ دفاع مقدس کے دوران کمانڈر اور ایک عام مجاہد کے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا اور دفاع مقدس کے افتخارات میں سے ایک یہی ہے۔
٭ عالم اسلام ایک طویل تاریخی دور میں ـ امویوں سے عثمانیوں تک ـ ایک عظیم کا زوال کا شکار ہوا اور مسلمانوں کو عظیم مصائب کا سامنا کرنا پڑا؛ ایسے مصائب جو آج بھی پوری قوت سے ہمیں درپیش ہیں اور یہ مصائب انتشار اور تفرقے کے اسی دور کا ثمرہ ہیں۔
٭ یہ خطہ ـ جس کے تمام ممالک مسلِم ہیں ـ بہت اہمیت رکھتا ہے، اس خطے میں مسلم ممالک کی تعداد 27 ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان 27 ممالک میں سے 16 کا انتظام استبدادی نظامات اور آمروں اور بادشاہوں کے ہاتھوں میں ہے یا پھر بعض خاندان موروثی طور پر اقتدار سنبھالتے ہیں؛ بطور مثال ملک عرب میں عبداللہ بن عبدالعزیز مر چلا تو اس کا بھائی سلمان اس کے تخت پر بیٹھ گیا اور اس نے بھی عوامی مداخلت کے بغیر اپنے بعد کے زمانوں کے دو بادشاہوں کو پہلے ہی انتخاب کرلیا ہے۔
٭ 27 اسلامی ممالک میں سے 7 ممالک بحرانوں، جنگوں اور اندرونی مصائب کا شکار ہیں اور جنگوں میں مبتلا ہیں یا پھر فلسطین کی طرح اجنبیوں کے قبضے میں ہیں۔ ان ممالک میں سے تین ممالک رہتے ہیں جن میں سے ایک ایران ہے اور اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ایران کی سلامتی کا ہم کس ملک کے حالات سے موازنہ کرسکتے ہیں؟
٭ عراق میں بعث پارٹی کی حکمرانی تھی اور امریکہ میں بھی یا تو ڈیموکریٹوں کی حکومت ہوتی ہے یا پھر ریپبلکنر کی تاہم بعث پارٹی اور امریکی جماعتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
٭ مغربی ممالک کے حکمران اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں، ایک بڑے یورپی ملک [فرانس] میں ثقافتی موضوعات کا قبح اس قدر ٹوٹ گیا ہے کہ اس کا صدر صداری محل میں بیوی کے بجائے اپنی محبوبہ کے ساتھ دن رات گذارتا ہے! اور حتی محبوبہ کے ساتھ مل کر دوسرے ممالک کے سربراہوں کا استقبال کرتا ہے۔
٭ اب یہی ممالک ہمیں اپنی طرف بلا رہے ہیں اور ہمارے ملک میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم تنہا ہوچکے ہیں اور اگر ہمیں اس تنہائی سے نکلنا ہے تو ان ممالک سے رابطہ برقرار کرنا پڑے گا۔ اس طرح کی حکومتوں سے کسی قسم کی قدر بھی جنم نہیں لیتی۔
٭ اسلامی جمہوریہ ایران کی خصوصیات منفرد ہیں۔ اس ملک کی ایک اہم خصوصیت اس کی قیادت ہے۔ میں رہبر انقلاب کا موازنہ دنیا کے دیگر راہنماؤں سے نہیں کرنا چاہتا لیکن کہاں اس طرح کا راہنما آپ کو مل سکے گا جو اس سطح کے تقوی پر فائز ہو اور ملک کے ہر فرد کے لئے ہمدرد اور دل سوز ہو؟
٭ رہبر انقلاب امام خامنہ ای کی معلوماتی سطح بہت وسیع ہے یہاں تک کہ جب بیرونی راہنما ان سے ملاقات کرتے ہیں تو ہم ایک خاص قسم کا فخر اور سربلندی محسوس کرتے ہیں۔ دنیا میں سوپر پاور کا دعوی کرنے والے ایک ملک کا سربراہ نے رہبر انقلاب سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ "میں اب سمجھا کہ ایران اس قدر مشکلات کے باوجود آج تک ڈٹا ہوا ہے"۔
٭ مغرب نے ہمارے خطے میں آگ اور خون کا کھیل رچایا ہوا ہے اور حالیہ 16 برسوں میں بیس لاکھ انسان مغرب کے اس خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ کر قتل ہوئے ہیں لیکن ان کی ہزاروں سازشوں کے باوجود ہمارا ملک ایران امن و سلامتی اور طاقت کا مظہر ہے اور سیاست اور سلامتی کے لحاظ سے اعلی حیثیت رکھتا ہے۔
٭ بعض لوگ بےبنیاد تفکرات کی بنیاد پر ہمارے عوام کو جتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم تنہا ہوچکے ہیں اور ہمیں تنہائی سے نکلنا چاہئے اور ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ہم تنہا ہیں تو پھر دشمن ہمارے ساتھ معاہدے منعقد کرنا چاہتا ہے اور ہم سے رابطہ برقرار کرنا چاہتے ہیں؟! ہم مختلف ادوار میں علاقے میں کسی حد تک اثر و رسوخ رکھتے تھے لیکن آج ہمارا اثر و رسوخ ماضی کے ادوار کے ساتھ قابل قیاس ہی نہیں ہے۔
٭ اتحاد و اتفاق آج کے دور میں بہت اہم ہے اور ہمیں اس کی اشد ضرورت ہے لیکن اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انتخابات میں کسی ایک شخص پر متفق ہوجائیں بلکہ اہم ترین بنیادی موضوع یہ ہے کہ ہم دشمن کے مد مقابل اپنے اتحاد و اتفاق کا تحفظ کریں۔
٭ عالم کفر کے ساتھ عالم اسلام کی جنگ میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں؛ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص دشمن کو دوست بنا کر پیش کرے اور اگر کوئی کسی بھی حیثیت سے دشمن کو دوست کے مقام پر لاکھڑا کرنے کی کوشش کرے تو اس کا یہ عمل خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔
٭ معاشرے کو آگاہ اور ہوشیار کرنا چاہئے اور اگر ہم آج عوام کی آگہی کی سطح کو ترقی دیں تو ملک ترقی کرے گا لیکن اگر ہم لوگوں کی فہم اور سمجھ بوجھ کو چھوٹے چھوٹے موضوعات میں مصروف کردیں تو ہمارا یہ عمل عوام کی آگہی کی سطح بڑھانے میں معاون نہیں ہوسکتا۔
٭ بعض اوقات بعض ممالک میں ایسی موضوعات پر وسیع و عريض بحث چھیڑ دی جاتی ہے جبکہ ان موضوعات کا تعلق معاشرے کے نصف فیصد سے بھی کم لوگوں سے ہوتا ہے لیکن وہ نصف فیصد افراد ان موضوعات کو پوری آبادی تک پھیلا دیتے ہیں۔ اس طرح کے موضوعات میں اگر لوگ ہمارے لئے تالیاں بھی بجائیں اور ہماری حوصلہ افزائی بھی کریں پھر بھی خیانت اور غداری ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اصل موضوعات کی طرف متوجہ کرایا جائے۔
٭ ہمیں امید ہے کہ اسلامی ایران اور اسلامی مزاحمت محاذ امام خامنہ ای کی قیادت میں فتح و نصرت کی راہ پر گامزن ہو۔
شیعه خبر ...
ما را در سایت شیعه خبر دنبال میکنید
برچسب: ژنرال قاسم سلیمانی, نویسنده: بازدید: 167 تاريخ: شنبه 3 مهر 1395 ساعت: 3:01