امام علی النقی الہادی علیہ السلام کی 10 کرامات

خرید بک لینک

عید میلاد امام علی النقی الہادی علیہ السلام مبارک ہو

خاندان رسول (ص) کی مظلومیت اظہر من الشمس ہے اور عجب ہے کہ امت محمد(ص) نے فرزندان محمد(ص) کے ساتھ ایسا سلوک کیوں روا رکھا؛ یہاں تک کہ رسول اللہ(ص) کے بعد آپ(ص) کی بیٹی سیدہ نساء العالمین شہید ہوئیں، آپ(ص) کے بھائی اور جانشین امیرالمؤمنین شہید ہوئے، جوانان جنت کے دو سردار شہید ہوئے اور امام حسین علیہ السلام کی نسل سے آٹھ ائمہ شہید ہوئے اور آخری امام بحکم خدا پردۂ غیبت میں چلے گئے ورنہ امت والے ان کو بھی شہید کرنا چاہتے تھے، جبکہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى؛

ترجمہ: [اے میرے رسول(ص)]! کہئے کہ میں تم سے اس [رسالت] پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا [میرے] صاحبان قرابت [اور خاندان] کی محبت کے"۔ (1)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:

"إِنِّی تَارِكٌ فِیكُمُ الثَّقَلَیْنِ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِی أَهْلَ بَیْتِی وَ إِنَّهُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّى یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ؛

ترجمہ: میں تمہارے درمیان دو عمدہ اور گرانبہا امانتیں چھوڑے جارہا ہوں؛ جب تک تم ان دو کا دامن تھامے رہوگے کبھی بھی گمراہی سے دوچار نہ ہوگے؛ کتاب اللہ، اور میری عترت اور میرا خاندان، اور بےشک یہ دونوں کھبی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے حتی کہ حوض کوثر کے کنارے مجھ پر وارد ہوجائیں"۔ (2)

افسوس کا مقام ہے مظلوم ترین خاندان رسالت میں بعض ائمہ دوسروں سے بھی زیادہ مظلوم ہیں جن میں سے ایک امام علی النقی الہادی علیہ السلام ہیں جو حتی کہ اپنے پیروکاروں کے درمیان بھی مظلوم ہیں، شیعہ آپ(ع) کو اچھی طرح سے نہیں پہچانتے اور آپ(ع) کی کوئی حدیث انہیں شاید ہی معلوم ہو، اگر ان سے کہا جائے کہ امام ہادی علیہ السلام کی ایک حدیث سناؤ یا آپ(ع) کا کوئی معجزہ بیان کرو، تو حیرت زدہ ہوجاتے ہیں!

ائمہ علیہم السلام بھی انبیاء علیہم السلام کی طرح اپنی حقانیت کے اثبات، ضرورتمندوں کی امداد، یا دشمنوں کو اپنے قوت جتانے کے لئے اعجاز سے استفادہ کرتے تھے، ان معجزات و کرامات میں سے کچھ کو تاریخ کی کتب میں نقل کیا گیا ہے۔

امام علی النقی الہادی علیہ السلام امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کے فرزند اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے والد ماجد اور یوں امام زمانہ مہدی علیہ السلام کے دادا اور ہمارے دسویں امام ہیں۔ امام ہادی علیہ السلام کی تاریخ ولادت 15 ذوالحجۃ الحرام سنہ 212ھ ق ہے اور آج عید کا دن ہے عید الضحی کے 5 دن بعد اور عید غدیر سے 3 دن قبل، عید میلاد امام ہادی علیہ السلام؛ آج کی مناسبت سے ہی آپ(ع) کے 10 معجزات کا اردو ترجمہ قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:

1- عیسی علیہ السلام کی مانند

ہاشم بن زید کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک نابینا شخص کو امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیا گیا اور امام(ع) نے اس کو بصارت عطا کی اور میں نے دیکھا کہ امام علیہ السلام نے مٹی سے ایک پرندہ بنایا اور اس میں پھونک دیا تو پرندہ زندہ ہوگیا اور اڑ کر چلا گیا؛ بعدازاں میں نے امام(ع) سے عرض کیا: کیا آپ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان فرق نہیں ہے؟

امام(ع) نے فرمایا:

"اَنَا مِنهُ وَهُوَ مِنّی؛

ترجمہ: میں ان سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ (3)

2۔ ریت، خالص سونا

ابو ہاشم داؤد بن قاسم جعفری کہتے ہیں: ہم بعض لوگوں کے استقبال کے لئے امام ہادی علیہ السلام سامرا سے باہر نکلے۔ امام(ع) زمین پر بیٹھے تھے اور میں آپ(ع) کے روبرو بیٹھا تھا اور میں نے زندگی کی شدت اور تنگدستی کی شکایت کی۔ اسی اثناء میں امام(ع) نے ہاتھ ریت کی طرف بڑھایا اور ایک مٹھی بھر ریت اٹھا کر میرے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: اس سے اپنی زندگی میں فراخی کا انتظام کرو اور جو کچھ دیکھ رہے کسی کو [فی الحال] مت بتاؤ۔

ابو ہاشم کہتے ہیں: میں ریت کو چھپا کر رکھا اور جب شہر میں واپس آیا تو دیکھا کہ جو کچھ میں نے امام(ع) سے لیا ہے ریت نہیں بلکہ سرخ رنگ کا خالص سونا ہے جو آگ کی طرح چمکتا ہے۔ جاکر ایک سونار کو گھر لے کر آیا اور کہا کہ "یہ سونا میرے لئے ڈھال دو"، اس شخص نے کہا میں نے آج تک اس سے بہتر سونا نہیں دیکھا ہے اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ کہ یہ سونا ریت کے ذرات کی صورت میں ہے! کہاں سے لے کر آئے ہو؟ (4)

3۔ سونے کی اینٹیں

ابو ہاشم داؤد بن قاسم جعفری کہتے ہیں: حج کے سفر سے قبل وداع کے لئے سامرا میں امام ہادی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام(ع) نے شہر سے باہر تک میری مشایعت فرمائی اور پھر اپنی سواری سے اترے اور زمین پر ایک دائرہ کھینچا اور فرمایا: جو کچھ اس دائرے کے بیچ ہے اپنے سفر خرچ کے لئے اٹھاؤ۔

میں نے مٹی کے اوپر ہاتھ رکھا اور 200 مثقال سونے کی ایک اینٹ میرے ہاتھ میں آئی۔ (5)

4۔ جذامی شخص کی شفا

سامرا کا ایک باشندہ جذام کے موذی مرض میں مبتلا ہوا اور اس کے زندگی ناخوشگوار ہوئی۔ یہ بیمار شخص ایک دن ابو علی فہری کے پاس بیٹھ کر اپنی بیماری سے شکایت کررہا تھا۔

فہری نے اس شخص سے کہا: جاکر امام ہادی علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرو، مجھے امید ہے تو شفا پاؤگے۔

وہ شخص ایک دن امما ہادی علیہ السلام کی متوکل عباسی کے قصر سے واپسی کے وقت، آپ(ع) کے راستے میں بیٹھ گیا۔ جب اس نے امام(ع) کو دیکھا تو وہ اٹھا تاکہ قریب جاکر دعا کی درخواست کرو، تو امام(ع) نے تین مرتبہ ہاتھ کا اشارہ کرکے کہ راستے سے ہٹ جاؤ اللہ تمہیں شفا دے۔

وہ شخص پلٹ آیا اور امام(ع) کے قریب جانے کی جرئت نہیں کرسکا۔ راستے میں اس کو فہری نظر آئے اور ماجرا انہیں کہہ سنایا کہ امام(ع) نے اس کو ہٹنے کا اشارہ کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ اسے شفا دے۔

فہری نے کہا: قبل اس کے، کہ تم کچھ کہو امام(ع) نے اللہ سے تمہارے لئے شفا کی دعا کی ہے، جاؤ اور جان لو کہ بہت جلد صحتمند ہوجاؤگے۔

جذامی شخص گھر چلا گیا اور دوسرے روز باہر آیا تو اس کے جسم میں بیماری کا کوئی اثر باقی نہ تھا۔ (6)

5۔ سواری کا زندہ ہوجانا

محمد بن سنان زاہری کہتے ہیں:

امام ہادی علیہ السلام مناسک حج بجا لانے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں آپ(ع) کو ایک خراسانی مرد نظر آیا جو اپنے مرے ہوئے گدھے کے قریب کھڑے ہوکر کہہ رہا تھا: میں اپنا بوجھ اور ساز و سامان کس طرح لے کر جاؤں گا؟

کچھ لوگ وہاں حاضر تھے جنہوں نے امام(ع) سے عرض کیا: یہ خراسانی مرد آپ خاندان رسالت کا حبدار ہے۔ چنانچہ امام(ع) گدھے کے قریب پہنچے اور فرمایا: بنی اسرائیل کی گائے اللہ کے نزدیک مجھ سے زیادہ محترم نہیں ہے، جس کے ایک حصے کو کاٹ کر مردے کو مارا گیا اور مردہ زندہ ہوگیا؛ اور پھر اپنے دائیں پیر سے گدھے کو لات ماری اور فرمایا: اللہ کے اذن سے اٹھو۔ چنانچہ گدھا ہل گیا اور اٹھا۔ خراسانی مرد نے اپنا بوجھ گدھے پر لاد لیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

محمد بن سنان کہتے ہیں: جہاں کہیں سے بھی امام کا گذر ہوتا، لوگ انگلیوں سے آپ(ع) کی طرف اشارہ کرکے کہتے تھے: یہ وہی بزرگوار ہیں جنہوں نے خراسی کے گدھے کو زندہ کیا۔ (7)

6۔ بد دعا سے استجابت تک

امام ہادی علیہ السلام متوکل کے محل کے ایک گوشے میں نماز بجا لارہے تھے تو مخالفین میں سے ایک شخص آپ(ع) کے سامنے کھڑا ہوگیا اور گستاخی کرتے ہوئے کہا: دکھاوے کے یہ اعمال تک کب تک؟

امام علیہ السلام نے تیزرفتاری سے نماز کو مکمل کرکے سلام دیا اور اس شخص سے مخاطب ہوکر فرمایا: اگر تم جھوٹے تو اللہ تمہیں ہلاک فرما دے۔

چنانچہ وہ شخص اسی وقت زمین پر گر پڑا اور مر گیا۔ راوی کہتا ہے کہ اس واقعے کی خبر پورے قصر میں پھیل گئی۔ (8)

7- ٹوٹا ہوا نگین

ایک روز [انگشتریاں بنانے والا] یونس نقاش ہانپتا کانپتا ہوا امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے میرے سرور و سردار! میری اہل خانہ کی مدد فرمایئے۔

امام(ع) نے فرمایا: ہوا کیا ہے؟

یونس نقاش نے کہا: میں یہاں سے کوچ کرنا چاہتا ہوں۔

امام(ع) سے تبسم کرتے ہوئے فرمایا: کیوں اے یونس؟

یونس نے کہا: [متوکل عباسی کے ایک کارگزار] ابن بغا نے میرے لئے ایک نگین بھجوایا جو بہت عمدہ تھا گویا اس کے لئے قیمت کا تعین ممکن نہ تھا اور میں اس پر ایک نقش کی کندہ کاری کررہا تھا تو وہ ٹوٹ کر دو ٹکڑوں میں تبدیل ہوا جبکہ کل نگین لوٹانے کا دن بھی ہے، اور یہ شخص موسی بن بغا ہے جو یا تو ایک ہزار کوڑے مارتا ہے یا پھر جان سے مارتا ہے۔

امام(ع) نے فرمایا: اپنے گھر چلے جاؤ، کشادگی آئے گی اور ان ان شا ء اللہ خیر ہی ہوگی۔

اگلے دن صبح کے وقت امام(ع) کے حضور پہنچا اور عرض کیا: ابن بغا کا ایلچی آیا ہے اور نگین مانگ رہا ہے۔

امام(ع) نے فرمایا: اس کے پاس چلے جاؤ تمہیں خیر ہی ملے گی۔

عرض کیا: اے میرے سیّد! میں کہوں تو کیا کہوں؟

امام(ع) نے مسکراتے ہوئے فرمایا: اس کے پاس چلے جاؤ اور سنو کہ وہ کہہ کیا رہا ہے، اس کا کہا خیر کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

یونس نقاش چلا گیا اور ہنستا مسکراتا واپس آیا اور امام(ع) سے عرض کیا: میں ابن بغا کے پاس گیا تو اس نے کہا: میری دو بیٹیاں آپس میں جھگڑ رہی ہیں، جاؤ نگین کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کاٹ لو تا کہ میں تمہیں اس محنت کی اجرت دے دوں!

امام علیہ السلام نے یوں دعا فرمائی: اے میرے معبود، تیرا شکر و سپاس کہ تو نے حقیقتا ہمیں اپنے شکرگزاروں میں قرار دیا ہے۔

اور پھر یونس سے مخاطب ہوکر پوچھا: تم نے کیا جواب دیا؟

یونس نے عرض کیا: میں نے کہا: آپ کچھ مہلت دیں تا کہ میں سوچ لوں کہ یہ کام کس طرح انجام دوں۔

امام(ع) نے فرمایا: تم نے اچھی بات کہی ہے۔ (9)

8۔ فرشتوں کا لشکر

متوکل اپنا لاؤ لشکر امام ہادی علیہ السلام کو دکھانا چاہتا تھا، تاکہ بزعم خود آپ(ص) کو خوفزدہ کرکے ممکنہ انقلاب بپا کرنے سے باز رکھے۔ چنانچہ عباسی بادشاہ نے بڑی تعداد میں لشکریوں کو کیل کانٹے سے لیس کرکے شہر کے ایک بڑے میدان میں اکٹھا کیا اور امام(ع) کے ایک بلندی پر لے گیا۔

امام(ع) نے متوکل عباسی کا لشکر دیکھنے کے بعد فرمایا: کیا میں بھی تمہیں اپنا لشکر دکھاؤں؟

متوکل نے کہا: ہاں دکھائیں۔

امام ہادی علیہ السلام بارگاہ ربوبی میں دست بدعا ہوئے تو یکایک آسمان اور زمین اور مشرق و مغرب کے درمیان مسلح فرشتے ظاہر ہونا شروع ہوئے۔

یہ دیکھ کر متوکل بےہوش ہوگیا اور جب ہوش میں آیا تو امام(ع) نے فرمایا: ہم تمہاری دنیا میں تمہارے ساتھ نزاع نہیں کرتے اور امرِ آخرت میں مصروف ہیں، ڈرنا مت اور ہم پر بدگمانی مت کرنا۔ (10)

9۔ اہلیان قم کا خمس

محمد بن داؤد قمی اور محمد طلحی کہتے ہیں: ہم قم اور اطراف سے جمع شدہ خمس اور نذورات، تحائف اور جواہرات لے قم سے باہر نکلے تاکہ ان اموال کو اپنے سید و سرور جناب امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا دیں۔ راستے میں امام(ع) کے قاصد نے آکر امام(ع) کا پیغام دیتے ہوئے کہا: واپس چلے جاؤ، یہ وقت ہمیں ان اشیاء کے ملنے کا نہیں ہے، چنانچہ ہم قم واپس چلے آئے اور اموال کو اپنے پاس رکھ لیا؛ چند روز بعد امام(ع) کا فرمان موصول ہوا کہ: ہم نے اونٹوں کا ایک قافلہ (ساربان کے بغیر) تمہاری طرف روانہ کیا، جو کچھ تمہارے پاس ہے ان اونٹوں پر لاد لو اور انہیں آزاد چھوڑو۔

ہم نے بھی مذکورہ اموال کو اونٹوں پر لاد لیا اور قافلے کو اللہ کے سپرد کیا۔ اگلے سال ہم امام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ(ع) نے فرمایا: دیکھ لو جو کچھ تم نے روانہ کیا تھا؛ ہم نے دیکھا تو وہی اموال و ہدایا تھے۔ (11)

10۔ سوالات کے جوابات:

محمد بن فَرَج کہتے ہیں: امام ہادی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: جب بھی کوئی سوال پوچھنا چاہو، اسے مکتوب کرو اور اپنا مکتوب مصلے کے نیچے رکو اور کچھ صبر کرو اسے باہر نکالو اور دیکھ لو۔

محمد بن فَرَج کہتے ہیں: میں نے امام(ع) کی ہدایت کے مطابق عمل کیا اور اپنے سوالات کا لکھا ہوا جواب وصول کیا۔ (12)

۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ سورہ شوری، آیت 23۔

2۔ مستدرک الحاکم، ج3، ص124؛ صواعق المحرقه، ابن حجر هيتمي، فصل9، حصہ2، ص191، 194؛ تاریخ الخلفا، جلال الدین سیوطی، ص173؛ صحیح بخاری، باب کتابة العلم من کتاب العلم، ج1، ص22؛ مسند احمد حنبل، تحقیق احمد محمد شاکر، حدیث 2992؛ طبقات ابن سعد، ج2، ص244، ط بیروت۔

3۔ علامه مجلسی، بحارالأنوار، ج 50، ص 185، ح 63

4۔ بحارالانوار، ص138، ح22

5۔ بحارالانوار، ص185، ح52

6قطبالدین راوندی، الخرائج و الجرائح، ج1، ص399، ح5

7۔ حسین بن عبدالوهاب، عیون المعجزات، ص131

8۔ علیبنحسین مسعودی، اثبات الوصیه، ص 231.

9۔ شیخ طوسی، امالی، ص288۔

10۔ بحارالانوار، ج50، ص158۔

11۔ بحارالانوار، ص185۔

12۔ بحارالانوار، ص155۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: امام علی النقی,امام علی النقی الهادی علیه السلام,امام علی النقی علیه السلام,امام علی النقی الهادی ع,امام علی النقی هادی,امام علی النقی,حدیث,امام علی النقی شهادت,امام علي النقي,امام علي النقي الهادي ع,امام علي النقي حديث, نویسنده: بازدید: 208 تاريخ: يکشنبه 28 شهريور 1395 ساعت: 10:57

صفحه بندی