معجزہ
معجزہ عجز سے مشتق ہے اور اس کے معنی عاجزہ کرنے والے عمل کے ہیں، چنانچہ وہ خارق العادہ اور غیر معمولی اعمال جو انبیاء اور اولیاء انجام دیتے ہیں اور دوسرے ان کے انجام دینے سے عاجز ہیں، معجزہ کہلاتے ہیں: جیسے مردوں کو زندہ کرنا، لاعلاج بیماریوں کا علاج کرنا وغیرہ۔
معجزہ کا تعلق اصولی طور پر انبیاء سے ہے جو وہ اپنی نبوت کی سچائی کے لئے دکھاتے ہیں اور لوگوں کے توحید و نبوت پر ایمان کا سبب بنتا ہے۔ جیسا قرآن مجید حضرت موسی علیہ السلام کے دو معجزوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک "معجزۂ عصا" اور دوسرا "معجزۂ ید بیضاء" اور ان دونوں کو اللہ نے برہان کا نام دیا ہے:
ارشاد ربانی ہے:
"اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْماً فَاسِقِينَ؛
ترجمہ: اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ وہ نکلے گا سفید چمکتا ہوا بغیر کسی برائی کے اور پھر سمیٹ لو اپنے بازوؤں کو خوف سے تو یہ دونوں برہان [دلیلیں] ہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے ارکان سلطنت کے سامنے پیش کرنے کے لیے بلاشبہ وہ پہلے سے بد اعمال لوگ تھے"۔ (1)
اور صالح علیہ السلام کا معجزہ ان کی اونٹنی کی شکل میں ظاہر ہوا اور خداوند متعال نے ارشاد فرمایا:
"قَدْ جَاءتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَـذِهِ نَاقَةُ اللّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللّهِ؛
ترجمہ: تمہارے پاس آیا ہے ایک خاص معجزہ تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ اللہ کی طرف کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے ایک قدرتی نشانی ہے تو اسے چھوڑ دو کہ کھاتی رہے اللہ کی زمین میں"۔(2)
انبیاء ـ اور بالخصوص اولو العزم پیغمبر ـ اپنی نبوت کے اثبات کے لئے صاحب معجزہ تھے اور قرآن مجید میں انبیاء سے مختلف معجزات نقل ہوئے ہوئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام کے نو معجزات (3) اور عیسی علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا (4)، وغیرہ۔ اور پیغمبروں کے سوا قرآن میں دوسرے افراد سے بھی معجزے نقل ہوئے ہیں جیسے سلیمان علیہ السلام کے کے ہاں کے عِفْريتٌ مِّنَ الْجِنِّ [جنات میں سے ایک دیو] اور آصف بن برخیا کا معجزہ (5) وغیرہ۔
کرامت
کرامت کے لغوی معنی بزرگواری اور معنوی عظمت کے ہیں اور علم کلام کی اصطلاح میں ان خارق العادہ اور غیر معمولی افعال کو معجزہ کہا جاتا ہے جو انبیاء علیہم السلام اپنی نبوت کے اثبات کے لئے انجام دیتے ہیں اور اسی طرح کے افعال انبیاء کے بغیر دوسرے افراد سے صادر ہوجائیں تو انہیں کرامت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ علمائے کلام کے نزدیک کرامت وہی معجزہ ہی ہے جو انبیاء کے سوا دوسرے افراد یعنی اولیائے الہی اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام سے صادر ہوتا ہے کیونکہ یہ قوت اللہ کی عطا کردہ ہے اور اللہ کے ہاں ان کی عظمت کا ثبوت ہے۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"المعجزة علامة اللّه لا يعطيها إلّا انبيائه ورسله وحججه ليعرف به صدق الصّادق من كذب الكاذب؛
ترجمہ: معجزہ ایک علامت ہے اللہ کی طرف کی، جسے خداوند متعال انبیاء، رسل اور اپنی حجتوں کے سوا کسی اور کو عطا نہیں فرماتا، اور اس کا ہدف یہ ہے کہ اس کے وسیلے سے سچے کی سچائی کو جھوٹے کے جھوٹ سے تمیز دی جاسکے"۔ (6)
بے شمار روایات کے مطابق، ائمۂ معصومین علیہم السلام بھی انبیاء کی طرح صاحب اعجاز ہیں لیکن ان کے اعجاز کو کرامت کہا جاتا ہے؛ اور حقیقت یہ ہے کہ معجزے اور کرامت میں فرق ہے؛ معجزہ یعنی اللہ کی دلیل جو ایک الہی مشن کے اثبات کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے اور اصطلاحا تحدی [للکار اور مبارز طلبی] کے زمرے میں آتا ہے، اور اس سے ایک الہی مقصد، مقصود ہے، اسی لئے خاص قسم کی شرائط سے مشروط و محدود ہے، جبکہ کرامت ایک خارق العادہ اور غیر معمولی امر ہے جو در حقیقت ایک انسان کامل یا نیم کامل کی روحانی قوت اور نفسانی تقدس کا نتیجہ ہے اور ایک خاص الہی مقصد کے اثبات کے لئے نہیں ہے۔ اس طرح کے امور بکثرت انجام پاتے ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک معمولی امر ہے اور کسی شرط سے مشروط نہیں ہے۔ معجزہ اللہ کی زبان ہے جس سے وہ کسی فرد کی تائید کرتا ہے لیکن کرامت اس طرح کی زبان نہیں ہے۔ (7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سوره قصص، آیت 32؛ برہان کے معنی واضح اور روشن کرنے کے ہیں اور چونکہ معجزہ انبیاء کی صداقت کو واضح اور صراط مستقیم کو روشن کردیتا ہے اسی لئے اسے برہان کہا جاتا ہے۔
2۔ سوره اعراف، آیه 73، واژه آیه به معنی علامت و نشانه است، زیرا معجزه نشانه صداقت پیامبران می باشد.
3۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ؛ اور ہم نے موسیٰ کو نوکھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں (سورہ اسراء، آیت 101)۔
4۔ سورہ آل عمران، آیت 49۔
5۔ سورہ نمل، آیات 39 و 40۔
6۔ محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج12، ص77۔
7۔ مجموعه آثار شہید مطہری، جلد 2۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
شیعه خبر ...
ما را در سایت شیعه خبر دنبال میکنید
برچسب: معجزه اور کرامت, نویسنده: بازدید: 174 تاريخ: شنبه 27 شهريور 1395 ساعت: 13:30